رسائی کے لنکس

امن مذاکرات کی پیش کش: کشمیری جماعتوں کا ملاجلا ردِ عمل

  • یوسف جمیل

بھارتی وزیرِ داخلہ پی چدم برم

بھارتی وزیرِ داخلہ پی چدم برم

اگرچہ حکمراں نیشنل کانفرنس اور حلیف جماعت کانگریس پارٹی نے بھارتی وزیرِ داخلہ پی چدم برم کی طرف سے امن مذاکرات کی تازہ پیش کش کا خیر مقدم کیا ہے، حزبِ اختلاف کی بھارت نواز علاقائی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے نئی دہلی کی اِس نئی سوچ کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ بات چیت کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اُس میں تمام آزادی پسند جماعتوں کے ساتھ ساتھ عسکری قائدین کو بھی شامل کیا جائےاور ماحول سازگار بنانے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات اُٹھائے جائیں۔

تاہم، دائیں بازو کی قوم پرست بھارتیا جنتا پارٹی نے کشمیر کے لیے سیاسی پکیج کی یہ کہہ کر مخالفت کی ہے کہ اُس سے ، اُس کے بقول، علیحدگی پسندوں کے حوصلے بلند ہوں گے۔

دوسری جانب، سرکردہ آزادی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی نے اُس وقت تک بات چیت کے کسی بھی عمل میں شامل ہونے کے امکان کو رد کر دیا ہے جب تک نئی دہلی کشمیر کی متنازع حیثیت کو قبول کرتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ بھارتی وزیرِ داخلہ نے مجوزہ امن بات چیت کے سلسلے میں اُن کا نام لے کر لوگوں میں اُن کے بارے میں بدظنی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، جو اُن کے بقول ، ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے۔

سید گیلانی کے الفاظ میں، ‘اگرمجھے پورا بھارت بھی جاگیر میں دیا جاتا ہے تب بھی میں شہدا کے خون کا سودا نہیں کر سکتا۔’

جب اُن کی توجہ بھارتی وزیرِ داخلہ کے پارلیمنٹ میں دیے گئے اُس بیان کی طرف مبذول کرائی گئی جِس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق مخصوص حالات میں ہوا ہے إِس لیے مسئلے کا حل بھی مختلف ہونا چاہیئے، تو اُنھوں نے کہا کہ:

‘ حکومتِ بھارت کو غیر مبہم الفاظ میں کشمیر کو متنازع مسئلہ قرار دینا چاہیئے، اُسے کشمیر سے اپنی مسلح افواج کو واپس بلانا ہوگا، سیاسی قیدیوں کو رہا کرنا ہوگا اور سخت اور کالے قوانین کو کالعدم قرار دے کر اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کو بنیاد بنا کر سہ فریقی بات چیت پر آمادہ ہونا ہوگا، تب جاکر کسی مذاکراتی عمل میں شامل ہو سکتے ہیں۔’

دوسری طرف آزادی اور علیحدگی پسند جماعتوں اور لیڈروں نے بھارتی وزیرِ داخلہ کے بیان پر محتاط ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG