رسائی کے لنکس

کشمیرخودمختاری : بھارتی حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی مخالفت

  • سہیل انجم

اپوزیشن جماعت، بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی)نے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کو خودمختاری دینے سے متعلق وزیرِ اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کے بیان کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ اِسے قطعی طور پربرداشت نہیں کیا جائے گا۔

بی جے پی کے ارکانِ پارلیمنٹ ونکہ نائیڈو، روی شنکر پرساد اور توبیا وِناتھ نے إِسے علیحدگی پسندوں کی حوصلہ افزائی کے مترادف قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ وزیرِ اعظم نے منگل کی شب کشمیر سے آئے ہوئے ایک کُل جماعتی وفد کے اجلاس میں کہا تھا کہ اگر خودمختاری پر اُن میں اتفاقِ رائے ہوا تو مرکز آئین کے دائرے میں رہ کر اِس پر غور کر سکتا ہے۔

بی جے پی رُکنِ پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے پارلیمنٹ میں اِس معاملے کو اُٹھاتے ہوئے وزیرِ اعظم کے بیان کو افسوس ناک قرار دیا۔

وشو ہندو پریشد کے اشوک سنگھل نے کہا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور اُسے دفعہ 370کے تحت خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں جب کہ نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمنٹ شرف الدین شارق نے کہا کہ خودمختاری کا اُن کا مطالبہ نیا نہیں ہے۔

اُن کے الفاظ میں ‘ہم کوئی نئی چیز نہیں مانگ رہے ہیں۔ جو خود مختاری1947ء سے لے کر 1960ء کے اواخر تک تھی وہی خودمختاری۔ نئی کوئی بات نہیں مانگ رہے ہیں۔’

اُدھر کانگریس لیڈر کِرن سنگھ نے بھی دفعہ 370 کے حوالے سے کہا کہ آئین کے دائرے میں کافی خود مختاری دی گئی ہے، اِس لیے وزیرِ اعظم کے بیان کی وضاحت ہونی چاہیئے۔ خیال رہے کہ چار گھنٹے تک چلنے والے کُل جماعتی اجلاس میں سینئر مرکزی وزرا کے علاوہ متعدد کشمیری رہنماؤں نے حصہ لیا جب کہ بی جے پی کے علاوہ حزِب مخالف کی دوسری جماعت پی ڈی پی نے بھی اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔

XS
SM
MD
LG