رسائی کے لنکس

سوپور میں پُر تشدد مظاہرے، جھڑپ میں دو فوجی ہلاک

  • یوسف جمیل

سوپور میں پُر تشدد مظاہرے، جھڑپ میں دو فوجی ہلاک

سوپور میں پُر تشدد مظاہرے، جھڑپ میں دو فوجی ہلاک

پولیس حراست میں مقامی نوجوان کی موت کے بعد اتوار کو بھارتی انتظام کے تحت کشمیرکے شہرسوپور میں پُر تشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔

سری نگر میں فوجی عہدے داروں نے بتایا کہ قریبی ٹیمپل پوسٹ نامی ایک سرحدی چوکی پر تعینات بھارتی فوجیوں نے اُسے چیلنج کیا۔عسکریت پسندوں نے جواب میں مزید اسلحے کا استعمال کرتے ہوئے چوکی کو نشانہ بنایا جِس کے نتیجے میں دو فوجی موقعے پر ہی ہلاک ہوگئے اور اُن کے تین ساتھی زخمی ہوگئے۔

بعد ازاں، اُن میں سے ایک سری نگر کے فوجی اسپتال میں چل بسا۔ اگرچہ بھارتی مسلح افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جے ایس برار نے بتایا ہے کہ جھڑپ جاری ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند فوج کا محاصرہ توڑنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

عہدے داروں کے مطابق گذشتہ چار دِن کے دوران اِس علاقے میں مبینہ طور پر دراندازی کرنے والے عسکریت پسندوں اور بھارتی فوج کے درمیان اِس طرح کی مڈھ بھیڑ کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ پہلے واقعے کے دوران ایک بھارتی جونیئر کمیشنڈ افسر ہلاک اور دو سپاہی زخمی ہوئے تھے۔

دریں اثنا، شمال مغربی شہر سوپور میں ایک مقامی نوجوان کی پولیس حراست کے دوران ہونے والی موت کے خلاف پُرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔

علاقے میں بھاری تعداد میں مسلح پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کردیے گیے ہیں جِنھوں نے مشتعل نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لیے طاقت استعمال کی ہے۔نصف درجن زخمی ہوئے ہیں۔

نوجوان ناظم رشید کے والد عبد الرشید شالے نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ پولیس کے عسکریت مخالف اسپیشل آپریشن گروپ کے سپاہیوں نے اُن کے بیٹے کو سنیچر کی سہ پہر اُن کی پنساری کی دوکان سے حراست میں لے لیا، یہ کہہ کر کہ اُسے معمولی پوچھ گچھ کے بعد رہا کیا جائے گا۔

پولیس عہدے داروں کا کہنا ہے کہ نوجوان کو اُن عسکریت پسندوں کے ساتھ دیکھا گیا تھا جِنھوں نے حال ہی میں علاقے کے ایک مزدور کو گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔ لیکن، یہ نہیں بتایا کہ 26سالہ نوجوان پولیس حراست کے دوران کیسے چل بسا۔

صوبائی وزیرداخلہ عمر عبد اللہ نے اِسے انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے یقین دلایا کہ ملوث اہل کاروں کو عبرت ناک سزا دی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG