رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر میں ہڑتال

  • یوسف جمیل

بھارتی کشمیر میں ہڑتال

بھارتی کشمیر میں ہڑتال

جمعرات کو بھارتی زیر ِانتظام کشمیر میں مسلح افواج کی آمد کی سالگرہ کے دِن عام ہڑتال ہوئی۔

سکھ رجمنٹ سے وابستہ بھارتی فوج کے پہلے جتھے کو 27 اکتوبر 1947ء کو سری نگر کے ہوائی اڈے پر اتارا گیا تھا اوراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مداخلت سے یکم جنوری 1949ء سے جنگ بندی نافذ ہوئی۔ اِس طرح، ریاست جموں و کشمیر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی اور بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک ایسے تنازعے کا باعث بنا جِس کا مستقبل قریب میں کوئی سیاسی یا پُر امن حل نظر نہیں آ رہا۔

نئی دہلی کا ہمیشہ یہ اصرار رہا ہے کہ اُس نے اپنی فوج کشمیر کے ڈوگرا مہاراجہ ہری سنگھ کی درخواست پر اور دستاویزِ الحاق پر دستخط کیے جانے کے بعد ہی بھیجی تھی۔ لیکن، پاکستان کے ساتھ ساتھ استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی کشمیری جماعتوں کا الزام ہے کہ ایسا ایک سازش کے تحت اور کشمیر پر قبضہ کرنے کے لیے کیا گیا۔

1989ء میں بھارتی کشمیر میں مسلح شورش شروع ہونے کے بعد آزادی پسند جماعتوں کی اپیل پر ہر سال 27 اکتوبر کو ’یومِ سیاہ‘ اور’ یومِ احتجاج‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ جمعرات کو بھی مسلم اکثریتی وادی کشمیر اور جموں ڈویژن کے بعض حصوں میں عام ہڑتال کی وجہ سے معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے۔

بیشتر تعلیمی ادارے بند رہے اور سرکاری دفاتر میں حاضری نہ ہونے کے برابر رہی۔

بھارتی فوج اِس دِن کو ’انفنٹری ڈے‘ یا پیادہ فوج کے دِن کے طور پر مناتی آئی ہے۔ چناچہ، جمعرات کو اُدھمپور شہر میں بھارتی فوج کی شمالی کمان کے ہیڈ کوارٹرز پر ایک رنگا رنگ تقریب منعقد ہوئی جِس کے دوران فوج کے ترجمان کے مطابق شہدا کی یادگار پر پھول چڑھائے گئے۔ اِسی طرح کی تقریبات کا اہتمام بارہ مولا، راجوری، پونچ، سری نگر اور کنٹرول لائن پر بھی کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG