رسائی کے لنکس

دو کشمیری خواتین کی موت: عصمت دری یا قتل کا واقعہ نہیں: بھارتی وفاقی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ

  • یوسف جمیل

دو کشمیری خواتین کی موت: عصمت دری یا قتل کا واقعہ نہیں: بھارتی وفاقی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ

دو کشمیری خواتین کی موت: عصمت دری یا قتل کا واقعہ نہیں: بھارتی وفاقی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ


بھارتی تحقیقاتی ادارے نے 30مئی 2009ء میں ہونے والی دو کشمیری خواتین کی ہلاکت کے بارے میں اتوار کو اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اُن کی موت ندی میں ڈوبنے سے ہوئی تھی، اور یہ کہ اُن کی عصمت دری کی گئی نہ ہی اُن کا قتل ہوا۔

واقع کے مطابق 17سالہ طالبہ آسیہ جان اور اُس کی 21سالہ بھاوج ، نیلوفر شکیل جنوبی شہر چُھپیاں کے مضافات میں سیب کے باغ میں کام کرنے کے بعد گھر لوٹتے ہوئے اچانک غائب ہوگئی تھیں، اور اگلی صبح اُن کی لاشیں قریبی پہاڑی ندی سے ملی تھیں۔

اِس واقع کے بعد عام شک کا اظہار کیا جارہا تھا کہ اُن کی عصمت دری ہوئی اور بعد میں اُنھیں ہلاک کرکے ندی میں ڈال دیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد، بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے کئی شہروں میں پُر تشدد مظاہرے ہوئے تھے اور پولیس کارروائی میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

ادھر چھپیاں کی جامع مسجد کے قریب اتوار کو ہونے والے ایک جلسے میں شرکا کی طرف سےدعویٰ کیا گیا کہ تحقیقاتی رپورٹ مسلح دستوں کے مبینہ جرم کو چھپانے کے لیے جاری کی گئی ہے۔ چھپیاں مجلسِ مشاورت نے اِس موقع پر کشمیریوں، بالخصوص خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ خود کو بچانے کے لیے از خود احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ تنظیم نے لوگوں سے کہا کہ وہ خود کو حفاظتی دستوٕں سے نہ صرف دور رکھیں بلکہ اُن کا سماجی بائیکاٹ کریں۔

دوسری طرف وزیرِ اعلیٰ فاروق عبداللہ نے مرکزی حکومت کے تحقیقاتی ادارے پر نکتہ چینی کو بیجا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ سائنسی بنیادوں پر تیار کی گئی ہے اور باقاعدہ چھان بین پر مبنی ہے، جو سب کے لیے قابلِ قبول ہونی چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG