رسائی کے لنکس

سلویٰ نے اپنے عزم اور محنت کے بل بوتے پر کمرشل پائلٹ کا لائسنس حاصل کیا ہے اور بہت سے لوگوں کے لیے ایک مثال بن گئی ہیں۔

سیدہ سلویٰ فاطمہ بھارت کے مسلمان پائلٹوں میں سے ایک ہیں جو کمرشل پائلٹ کا لائسنس رکھتی ہیں۔ ان سے پہلے بنگلور کی سارہ صبا حمید پہلی مسلمان کمرشل پائلٹ ہیں جو طیارہ اڑا رہی ہیں۔

26 سالہ سلویٰ فاطمہ کا تعلق حیدرآباد شہر سے ہے۔ ان کے والد سید اشفاق احمد بیکری پر کام کرتے ہیں لیکن سلویٰ اپنے بچپن سے ہی جہاز اڑانے کا خواب دیکھتی رہی ہے اور بظاہر ایسا لگتا تھا کہ ان کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکےگا۔

لیکن سلویٰ نے اپنے عزم اور محنت کے بل بوتے پر کمرشل پائلٹ کا لائسنس حاصل کیا ہے اور بہت سے لوگوں کے لیے ایک مثال بن گئی ہیں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق کمرشل پائلٹ کا لائسنس حاصل کرنے کے بعد سلویٰ فاطمہ کا ابھی ایک سنگ میل عبور کرنا باقی ہے۔

انھیں بوئنگ 737 اور ائیر بس اے 320 طیارہ اڑانے کے لیے ابتدائی لائسنس اور ہوائی جہاز کی تربیت کے علاوہ اضافی تربیت کی ضرورت ہے۔ لیکن سلویٰ فاطمہ کے لیے اس اضافی تربیت کے اخرجات (32 لاکھ روپیہ) کی ادائیگی کرنا نامکمن تھا۔ سلویٰ نے اپنی منزل سے اتنے قریب پہنچنے کے بعد ہر گز ہمت نہیں ہاری اور بھارتی حکومت سے اپنی امداد کرنے کی درخواست کی تھی۔

تاہم ایک لمبے انتظار کے بعد سلویٰ کی زندگی میں وہ دن قریب ہے جب وہ اپنے خواب کو حقیقت کے روپ میں بھی دیکھ سکیں گی۔ رواں ہفتے آئی این ڈی ٹوڈے کےخصوصی انٹرویو میں سلویٰ فاطمہ نے بتایا کہ تلنگانہ حکومت کی طرف سے ان کی مالی امداد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور اب وہ اپنی تربیت مکمل کرنے کے بعد ایوی ایشن کی صنعت میں کام شروع کر سکیں گی۔

سلویٰ فاطمہ کا خواب!

سلویٰ فاطمہ نے حیدرآباد کے ایک پرانے علاقے میں غربت میں آنکھ کھولی۔ وہ چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں۔ ان کے والد اشفاق احمد ایک بیکری میں یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں۔ لیکن فاطمہ بچپن سے ہی ایوی ایشن سے متعلق اخباری آرٹیکل پڑھا کرتیں اور انھیں محفوظ کرلیا کرتی تھیں اور گھنٹوں ان پر طیاروں کی تصاویر کو دیکھا کرتی تھی۔

روزنامہ سیاست کے ایک انٹرویو میں سلویٰ فاطمہ نے بتایا کہ وہ عزیزہ اسکول کی ایک ہونہار طالبہ رہی ہے۔ میٹرک میں ان کا رزلٹ بہت اچھا تھا جس کی وجہ سے شہر کے ایک نامور کالج نے ان کی پچاس فیصد فیس معاف کر دی تھی اگرچہ والدین چاہتے تھے کہ وہ سائنس یا انجنیئرنگ کے کسی کورس میں داخلہ حاصل کریں لیکن وہ عام لڑکیوں سے کچھ ہٹ کر کرنا چاہتی تھیں اور پائلٹ بننا ان کا جنون تھا لیکن اپنے والدین کے کہنے پر سلویٰ نے ایک مفت کوچنگ سینٹر میں داخلہ لیا جہاں انجنیئرنگ اور میڈیکل کے انٹرنس ٹیسٹ کے امتحان کی تیاری کرائی جاتی تھی۔

سلوی فاطمہ کی کامیابی کا حیرت انگیز سفر :

سلویٰ نے بتایا کہ کوچنگ سینٹر کی طرف سے نئے گروپ کی افتتاحی تقریب میں میری ملاقات روزنامہ سیاست کے ایڈیٹر زاہد علی خان سے ہوئی انھوں نے میری کہانی سنی اور پائلٹ بننے کے لیے مالی امداد کی پیشکش کی۔

فاطمہ نے 2007 میں آندھرا پردیش ایوی ایشن اکیڈمی میں داخلہ حاصل کیا اور 5 سال کی سخت ٹریننگ کی اور کمرشل پائلٹ کا لائسنس حاصل کیا علاوہ ازیں ان کے پاس پرائیوٹ پائلٹ لائسنس اور فلائٹ ریڈیو ٹیلی فون آپریٹر کا لائسنس بھی ہے۔

وہ پرواز کے 200 گھنٹے مکمل کر چکی ہیں جس میں ان کی سولو پرواز کے 123 گھنٹے بھی شامل ہیں۔

بھارت میں خواتین ہوا بازوں کی تعداد میں اضافہ

ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کے 5050 پائلٹوں کی تعداد میں سے لگ بھگ 600 خواتین پائلٹ ہیں۔ بھارتی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ بھارت میں خواتین پائلٹس کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے اور گذشتہ پانچ برسوں میں 4,267 کمرشل لائسنس جاری ہوئے ہیں جن میں 628 یا 14.7 فیصد خواتین کو جاری کئے گئے۔

ذرائع کے مطابق بھارتی خواتین کی 430 ملین تعداد کے مقابلے میں مسلمان خواندہ خواتین کی تعداد 67 ملین ہے۔

XS
SM
MD
LG