رسائی کے لنکس

بھارت: تبدیلی مذہب کی متنازع مہم کے خلاف احتجاج


بھارتی پارلیمان کی عمارت (فائل)

بھارتی پارلیمان کی عمارت (فائل)

پیر کو حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے ارکان نے بھارتی پارلیمان کےا یوانِ بالا 'راجیہ سبھا' اور ایوانِ زیریں 'لوک سبھا' کی کارروائی روک دی اور دونوں ایوانوں میں شدید احتجاج کیا۔

بھارت کی ایک مرکزی ہندو قوم پرست جماعت کی جانب سے ملک کی اقلیتوں کو ہندو بنانے کی مہم جاری رکھنے کے اعلان کے خلاف بھارتی پارلیمان کے اندر اور ملک کے کئی شہروں میں احتجاج ہوا ہے۔

پیر کو حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے ارکان نے بھارتی پارلیمان کےا یوانِ بالا 'راجیہ سبھا' اور ایوانِ زیریں 'لوک سبھا' کی کارروائی روک دی اور دونوں ایوانوں میں شدید احتجاج کیا۔

ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔ حزبِ اختلاف کے ارکان نے 'لوک سبھا' میں احتجاج کے بعد ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا۔

حزبِ اختلاف کے ارکان وزیرِاعظم نریندر مودی سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ اپنی حلیف جماعت 'راشٹریہ سوایم سیوک سنگھ' (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھگوت کی جانب سے اقلیتوں – بشمول مسلمانوں اور عیسائیوں - کو ہندو بنانے کی مہم جاری رکھنے کے اعلان کے بعد اپنی حکومت کی پالیسی واضح کریں۔

حزبِ اختلاف کے احتجاج کے بعد 'لوک سبھا' میں بھارتی حکومت کے وزیر برائےپارلیمانی امور ونکایا نائیڈو نے وضاحتی بیان دیتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ ان کی حکومت مذہب کی تبدیلی کی متنازع مہم کی مخالفت کرتی ہے۔

بھارتی وزیر کا کہنا تھا کہ تمام ریاستی حکومتوں کو ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے جو ان کی حدود میں قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ہفتے کی شب بھارت کے شہر کلکتہ میں ایک جلوس سے خطاب کرتے ہوئے 'آر ایس ایس' کے سربراہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ہندوستان ماضی میں ایک "ہندو قوم" تھا جس کے بہت سے افراد کو زبردستی دوسرے مذاہب قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔

انہوں نے کہا تھا کہ وہ ان سب لوگوں کو ہندو مذہب میں واپس لائیں گے جو "راہ سے بھٹک چکے ہیں اور جنہیں لالچ یا دباؤ کے ذریعے مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا"۔

'آر ایس ایس' کے سربراہ کی جانب سے تبدیلیٔ مذہب کی متنازع مہم جاری رکھنے کے اعلان کے خلاف پیر کو بھارتی پارلیمان کے علاوہ دارالحکومت نئی دہلی سمیت ملک کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے۔

حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے رہنماؤں نے احتجاجی مظاہروں سے خطاب میں قوم پرست جماعت کی مہم کو بھارتی کی سیکولر شناخت کے خلاف اور معاشرے کے تقسیم کی کوشش قرار دیتے ہوئے وزیرِاعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر اپنا موقف واضح کریں۔

تبدیلیٔ مذہب کی اس مہم کا انکشاف اس وقت ہوا تھا جب رواں ماہ کے آغاز میں مسلمانوں کے ایک گروہ نے شکایت کی تھی کہ انہیں بعض ہندو تنظیموں نے بہلا پھسلا کر ایک ایسی تقریب میں شرکت پر مجبور کردیا تھا جہاں اقلیتی برادریوں کے افراد سے مذہب تبدیل کرنے کا اعلان کرایا جارہا تھا۔

ان الزامات نے بھارتی سیاست میں ہلچل مچادی تھی اور حزبِ اختلاف کی سیکولر جماعتوں نے اس معاملے پر بھارتی پارلیمان میں کئی روز تک احتجاج اور ہنگامہ آرائی بھی کی تھی۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا اصرار تھا کہ وزیرِاعظم نریندر مودی اس معاملے پر خود پارلیمان میں بیان دے کر اپنا موقف واضح کریں۔

وزیرِاعظم مودی نے اب تک اس معاملے پر کوئی وضاحتی بیان جاری نہیں کیا ہے لیکن 'بی جے پی' کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم نجی محفلوں اور اجلاسوں میں پارٹی کے رہنماؤں اور قانون سازوں کو تبدیلی مذہب کی مہم سمیت دیگر متنازع معاملات سے دور رہنے کی ہدایت کرچکے ہیں۔

بھارت کی ایک ارب 20 کروڑ کی آبادی کی اکثریت ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہے لیکن ملک میں لگ بھگ 16 کروڑ مسلمانوں سمیت عیسائی اور دیگر اقلیتیں بھی بستی ہیں جو ماضی میں ہندو اکثریت کے ہاتھوں استحصال اور امتیازی سلوک کا نشانہ بننے کی شکایت کرتی رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG