رسائی کے لنکس

بھارت، برما کے ساتھ باہمی تعلقات کو فروغ دے گا: من موہن سنگھ

  • سہیل انجم

دورے میں عوام سے عوام کے درمیان رابطے میں تیزی لانے اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مضبوط کرنے سے متعلق متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی قراردادوں پر دستخط بھی کیے جائیں گے

وزیر اعظم من موہن سنگھ برما کے سہ روزہ دورے پر اتوار کو رنگون روانہ ہوئے۔ توقع ہے کہ اِس دورے میں دونوں ملک توانائی، تجارت اور رابطہ کاری سمیت متعدد شعبوں میں باہمی تعلقات کو آگے بڑھانے کے اقدامات کریں گے۔

روانگی سے قبل ایک بیان میں وزیر اعظم نےکہا کہ بھارت اپنے قریبی دوست اور پڑوسی ملک برما کے ساتھ اپنے رشتوں کو اہمیت دیتا ہے اور حالیہ برسوں میں ہمسایہ ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں کافی استحکام آیا ہے۔

اُن کا یہ دورہ گذشتہ سال اکتوبر میں برما کے صدر تھین سین کے کامیاب دورہٴ بھارت میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرے گا۔

من موہن سنگھ گذشتہ 25برسوں میں برما کا دورہ کرنے والے پہلے وزیر اعظم ہیں۔اِس سے قبل، سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے 1978ء میں برما کا دورہ کیا تھا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آئندہ برسوں میں باہمی تعاون کو تیز کرنے کے لیے مواقع پر تبادلہٴ خیال کریں گے۔

وہ پیر کے روز برما کے صدر سے مذاکرات کریں گے جس کے دوران تجارت اور سرمایہ کاری میں استحکام، سرحدی علاقوں میں ترقی، ایک دوسرے ملک کے مابین رابطوں میں اضافہ، اہلیت سازی میں سدھار اور انسانی وسائل جیسے معاملات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

دورے میں عوام سے عوام کے درمیان رابطے میں تیزی لانے اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مضبوط کرنے سے متعلق متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی قراردادوں پر دستخط بھی کیے جائیں گے۔

وزیر اعظم من موہن سنگھ منگل کے روز برما کی اپوزیشن راہنما اور نوبیل انعام یافتہ، آنگ سان سوچی سے ملاقات کریں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ برما میں جمہوریت کی خاطر آنے والی تبدیلی اور جمہوری عمل کے لیے کیے گئے حکومت کے اقدامات کا بھارت خیر مقدم کرتا ہے۔

وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ 2600سال پرانی بودھ ورثے کی علامت، تاریخی پگوڈا اور بھارت کے آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کے مزار کی زیارت کی بھی خواہش رکھتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، وہ بہادر شاہ ظفر کی باقیات کو رنگوں سے بھارت واپس لانے کے امکانات پر بھی برمی حکام سے تبادلہٴ خیال کریں گے، تاکہ عزت و احترام کے ساتھ بھارت میں اُن کی تدفین کی جاسکے۔

وزیر اعظم کے اِس دورے کو کافی اہم سمجھا جارہا ہے۔ برما میں بھارت کے سفیر کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب برما جمہوری طرفِ حکومت کی جانب قدم بڑھا رہا ہے اور وہ ایک کھلی معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے۔

بھارت اور برما کی باہمی تجارت کی بہت اہمیت ہے، لیکن اِس سے بھی زیادہ ضرورت دونوں ملکوں کے مابین بہتر رابطہ کاری کی ہے۔ بھارت کے لیے جنوب مشرقی ایشیا کی راہداری کی شکل میں برما کی اسٹریٹجک اہمیت رہی ہے اور ’لُک ایسٹ پالیسی‘ ، توانائی کے ذخائر اور شورش زدہ چار ریاستوں سے متصل اُس کی 1640کلومیٹر طویل سرحد کی وجہ سے بھارت کے لیے برما کی خاصی اہمیت ہے۔

XS
SM
MD
LG