رسائی کے لنکس

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ کے پہلے سرکاری دورے پر ہیں۔ اوباما انتظامیہ نے ملاقات کو دونوں ملکوں کے مشترکہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کی کوششوں کے حوالے سے نہایت اہم قرار دیا ہے

بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے پیر کے روز اپنے دو روزہ دورہٴامریکہ کے آغاز پر صدر براک اوباما کی طرف سے وائٹ ہاؤس میں اپنے اعزاز میں دی جانے والی ضیافت میں شرکت کی۔

منگل کے روز، دونوں سربراہان باضابطہ بات چیت کریں گے۔

بھارت ایک اہم ملک ہے، اور دونوں ملکوں کے آپس میں قریبی تعلقات ہیں۔ اوباما انتظامیہ نے اس ملاقات کو دونوں ملکوں کے مشترکہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کی کوششوں کے حوالے سے نہایت اہم قرار دیا ہے۔

ایجنڈا سے متعلق ایک سوال پر، پیر کے روز محکمہٴخارجہ کی خاتون ترجمان، جین ساکی نے کہا کہ معیشت کے علاوہ، اگلے 36 گھنٹوں کے دوران بھارت کے ساتھ توانائی اور سکیورٹی پارٹنرشپ؛ زیریں ڈھانچے، اور باہمی تجارت کے شعبوں میں بات چیت متوقع ہے۔

توقع ہے کہ دونوں رہنما مشترکہ تعلقات کو مزید فروغ دینے پر بات چیت کریں گے، جس دوران معاشی افزائش پر دھیان مرکوز رہے گا، ایسے میں جب بھارت کی طرف سے اپنی معیشت کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کھولنے میں ناکامی پر امریکہ کو تشویش لاحق رہی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ دونوں ممالک علاقائی سکیورٹی کے حوالے سے تعاون پر بات چیت کریں گے، ایسے میں جب اس سال کے آخر تک امریکہ افغانستان سے اپنی لڑاکا فوجیں واپس بلا لے گا۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ کے پہلے سرکاری دورے پر ہیں، اس سال مئی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی عام انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرنے کے بعد نریندرمودی وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان جوش ایرنسٹ نے کہا کہ کہ دونوں رہنما منگل کو دو طرف تعلقات پر مذاکرات کریں گے، جن کا محور دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید وسعت دے کر آگے بڑھانا ہے۔

ایرنسٹ نے کہا کہ وائٹ ہاؤس ’اس شراکت کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ ہم معاشی ترقی، سیکورٹی تعاون اور ان اقدامات کے بارے میں بات کریں گےجس سے دونوں ملکوں اور دنیا کے لیے دوررس فوائد حاصل ہوں گے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ ملاقات میں افغانستان، شام اور عراق کی موجودہ صورت حال سمیت علاقائی معاملات پر بھی بات چیت کی جائے گی۔

’صدر خود (بھارتی) وزیراعظم کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں تاکہ دونوں ملکوں کے عوام کے مفاد کے لیے امریکہ اور بھارت کے وسیع تر تعلقات کے حوالے اپنے عزم کو عملی جامہ پہنا سکیں۔‘

اوباما انتظامیہ کے عہدیداروں نے دو طرفہ تعلقات کو ’اکیسویں صدی کی تاریخ ساز شراکت قرار دیا ہے‘ اور انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ مودی کے معاشی اصلاحات کے پروگرام کی حمایت کرتا ہے اور اس کے ساتھ انسداد دشت گردی اور توانائی کی سکیورٹی کے لیے بھی مدد فراہم کرے گا‘۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی دورہ امریکہ کے دوران بھارت میں سرمایہ کاری کے حصول کے لیے گوگل، آئی بی ایم، جنرل الیکٹرک، گولڈمین، ساشے اور بوئینگ سیمت دوسرے کاروباری اداروں کے سربراہوں سے بھی ملاقات کریں گے۔

XS
SM
MD
LG