رسائی کے لنکس

تیسری بار وزارت عظمٰی کا اُمیدوار نہیں ہوں گا: منموہن سنگھ


بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ

بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ

بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ نریندر مودی کا وزیراعظم بننا ملک کے لیے ’’تباہ کن‘‘ ہو گا۔

بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ اگر ان کی جماعت تیسری مرتبہ بھی انتخابات میں کامیاب ہوتی ہے تو وہ وزارت عظمیٰ کے امیدوار نہیں ہوں گے۔

’’چند ماہ میں، عام انتخابات کے بعد میں اقتدار نئے وزیراعظم کو سونپ دوں گا۔‘‘

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کا وزیراعظم بننا ملک کے لیے ’’تباہ کن‘‘ ہو گا۔ انھوں نے یہ بات جمعہ کو نئی دہلی میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس میں کہی۔

بھارت میں مئی میں عام انتخابات منعقد ہونے جا رہے ہیں اور رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں کی پوزیشن نسبتاً کمزور ہے جب کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ’بی جے پی‘ کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور اس جماعت نے ملک کی وزارت عظمیٰ کے لیے نریندر مودی کو اپنا امیدوار نامزد کر رکھا ہے۔

نریندر مودی پر گجرات میں ہندو مسلم فسادات سے متعلق جانبدارانہ رویہ رکھنے پر کڑی تنقید کی جاتی رہی ہے۔

81 سالہ وزیراعظم سنگھ کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اور اتحادی اپنے وزیراعظم کے لیے نام وقت آنے پر کریں گے۔

من موہن سنگھ کی جماعت کانگریس 2004ء اور 2009ء کے عام انتخابات میں کامیاب ہوئی اور اپنے اتحادیوں کے ملک کر حکومت میں رہی۔

من موہن سنگھ مئی 2004ء سے ملک کی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہیں۔

ادھر پاکستان نے بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ کی طرف سے دورے کی خواہش کو خوش آئندہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں پہلے ہی اس کی دعوت دی جا چکی ہے۔

جمعہ ہی کو اسلام آباد میں دفترخارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے صحافیوں کو بتایا کہ ’’پاکستان کی طرف سے انھیں پہلے ہی دورے کی دعوت دی جا چکی ہے لیکن ابھی تک اس بارے میں کوئی حتمی تاریخ طے نہیں ہو سکی۔‘‘

بھارتی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ اور پرامن تعلقات خطے میں ترقی اور خوشحالی کے ضامن ہیں۔

دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان تعلقات روز اول ہی سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اقتدار میں آنے کے بعد متعدد بار بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے فروغ کی خواہش اور امید کا اظہار کرچکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG