رسائی کے لنکس

متاثرہ لڑکی اسپتال میں زیر علاج ہے جب کہ پولیس نے اس سے جنسی زیادتی کرنے والے 12 مردوں اور پنچائت کے سربراہ کو حراست میں لے رکھا ہے۔

بھارت میں ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے گزشتہ ہفتے گاؤں کی ایک پنچائت کے حکم پر 20 سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق چیف جسٹس پی ساتھاسیوم نے واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ایک روز قبل حکام نے بتایا تھا کہ لڑکی کی آبروریزی کرنے والے 12 افراد اور پنچائت کے سربراہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

مغربی بنگال کے ایک گاؤں سبالپور میں رواں ہفتے پنچائت نے ایک لڑکی کو دوسرے مذہب کے لڑکے سے محبت کرنے کے کا قصور وار قرار دیتے ہوئے اسے 25 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کا کہا تھا۔

غربت کی وجہ سے لڑکی کے گھر والے جرمانے کی رقم ادا نہ کر سکے جس پر پنچائت نے 12 مردوں کو اس لڑکی سے جنسی زیادتی کا حکم دیا۔

متاثرہ لڑکی اسپتال میں زیر علاج ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کی ایک خبر کے مطابق لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے دوران رات بھر وہ چیختی رہی لیکن کوئی بھی اس کی مدد کو آگے نہیں بڑھا۔ بعض اطلاعات کے مطاق لڑکی ہندو مذہب کے ایک قبیلے سے تعلق رکھتی ہے جب کہ اس سے محبت کرنے والا لڑکا مسلمان اور دوسرے گاؤں کا تھا۔

یہ لڑکا جب رشتہ لے کر لڑکی کے گھر پہنچا تو گاؤں والوں نے ان دونوں کو پکڑ کر پنچائت کے سامنے پیش کیا جس نے دونوں پر 25، 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔ لڑکے کے گھر والوں نے اس پر عائد جرمانہ ادا کر دیا تھا۔

بھارت میں حالیہ مہینوں کے دوران غیر ملکی خواتین کے ساتھ بھی اجتماعی زیادتی کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ دسمبر 2012ء میں ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ دارالحکومت نئی دہلی میں چلتی بس میں اجتماعی جنسی زیادتی اور وحشیانہ تشدد کے بعد اسے سڑک پر پھینکے جانے کے واقعے نے پورے ملک میں احتجاجی مظاہروں کو جنم دیا تھا۔
XS
SM
MD
LG