رسائی کے لنکس

ایک غلط نام شامل ہو جانے سے معاملے کی سنگینی کم نہیں ہوجاتی: بھارتی وزیرِ داخلہ

  • سہیل انجم

ایک غلط نام شامل ہو جانے سے معاملے کی سنگینی کم نہیں ہوجاتی: بھارتی وزیرِ داخلہ

ایک غلط نام شامل ہو جانے سے معاملے کی سنگینی کم نہیں ہوجاتی: بھارتی وزیرِ داخلہ

بھارتی حکومت کو اُس وقت زبردست شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب اُسے یہ معلوم ہوا کہ اُس نے 50 مطلوب افراد کی جوفہرست پاکستان کے حوالے کی ہے اُس میں ایک ایسے شخص کا نام بھی شامل ہے جو ممبئی کے نزدیک ضلع تھانے کے واگلے اسٹیٹ میں رہ رہا ہے، اُس شخص کا نام وجیہ القمر خان ہے، اُس کے ساتھ اُس کی بیمار ماں، بیوی اور پانچ بچے بھی ہیں، اور اُس کا نام فہرست میں اکتالیسویں نمبر پر ہے۔

اِس انکشاف کے بعد وزارتِ داخلہ اورمہاراشٹر حکومت نے اُس کا نام فہرست میں شامل کیےجانے کی ذمہ داری لینےسے پلہ جھاڑنا شروع کردیا ہے۔

بھارتی وزیر داخلہ پی چدھم برم نے کہا ہے کہ فہرست ایک ماہ قبل تیار کی گئی تھی۔ اُن کے الفاظ میں ’میں نہیں جانتا کہ یہ وہی شخص ہے۔ ایک نام کے دو افراد بھی ہوسکتے ہیں۔ یا پھر غلطی بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن، ایک غلط نام شامل ہو جانے سے معاملے کی سنگینی کم نہیں ہوجاتی۔‘

اُدھر، وزارتِ داخلہ نے مہاراشٹر پولیس سے وجیہ القمر کے رہائش کی تفصیلات طلب کی ہیں اور ریاستی حکومت نے اِس معاملے کی جانچ کا حکم دیا ہے۔

وجیہ القمر کو 2002ء کے ممبئی سینٹرل بم دھماکوں، 2003ء کےمُلند ٹرین دھماکوں اور وِلے پارلے اور گھٹکوپر دھماکوں میں ملزم بنایا گیا ہے۔ وہ اِس وقت ضمانت پر ہے۔ اُس کی بہن اور بیوی نے اُس پر عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ سچ نہیں ہے۔ ہم لوگ کبھی پاکستان نہیں گئے۔‘ اُس علاقے کے انچارج ایک پولیس اہل کار نے بھی کہا ہے کہ وہ شخص پاکستان میں نہیں بلکہ یہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG