رسائی کے لنکس

بھارتی ٹیلی ویژن چینل پر پاکستانی ڈرامہ سیریلز کی پذیرائی


ان میں غیر ضروری بناوٹ اور اچھل کود نہیں ہے۔ سب سے اچھی چیز ان ڈراموں کی زبان ہے۔ جب ان میں بہت سے ہندی کے لفظ سنائی دیتے ہیں تو ذہن میں گھنٹی سی بجتی ہے۔

ایسے میں جب کچھ دِنوں سے،پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحد پر ہونے والی گولہ باری میں کئی شہری ہلاکتیں واقع ہوئی ہیں، تو دوسری طرف بھارت کے ایک ٹیلی ویژن چینل پر پاکستانی ڈرامے دکھائے جارہے ہیں، جنھیں خوب پسند کیا جا رہا ہے۔

’زی‘ نیٹ ورک کا ’زندگی‘ نامی چینل، کچھ ماہ قبل شروع ہوا، جس پر اب تک کئی پاکستانی ڈرامہ سیریل دکھائے جا چکے ہیں، جن میں’زندگی گلزار ہے‘ اور ’مات‘ شامل ہیں، جنھیں، ذرائع کے مطابق، خوب پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔

اس ہفتے اِسی چینل پر مشہور ڈرامہ سیریل ’ہمسفر‘ کا آغاز ہوا۔

زی نیٹ ورک کی بزنس ہیڈ پریانکہ دتہ کے مطابق، ہمیں زبردست ریسپونس ملا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اچھا کانٹینٹ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اچھی چیزیں جب بھی لوگوں کو دیکھنے کو ملتی ہیں، لوگ اسے سراہتے ہیں۔

پاکستانی ڈراموں کی ایک شائق، دلی کی مدھو گوسوامی کہتی ہیں کہ ہم گھریلو خواتین کا ایک چھوٹا سا گروپ ہے۔ ان سے میں نے جب پوچھا کہ یہ جو زندگی چینل پر ڈرامے آرہے ہیں، یہ آپ دیکھتی ہوں تو سب نے کہا ہم تو اب دیکھتے ہی صرف یہ چینل ہیں۔

پاکستانی ڈراموں کی پسندیدگی کی وجہ کیا ہے؟ مدھو گوسوامی کہتی ہیں کہ ان میں غیر ضروری بناوٹ نہیں ہے، اچھل کود نہیں ہے۔ سب سے زیادہ جس چیز سے میں ریلیٹ کر سکتی ہوں۔ وہ ان ڈراموں کی زبان ہے۔ جب ان میں بہت سے لفظ ہندی کے آتے ہیں تو آپ کے ذہن میں گھنٹی سی بجتی ہے۔ یہ چیزیں ہمارے لئے بہت حیران کن ہیں کہ پاکستانی کتنا ہم جیسا بولتے ہیں۔ ایک تجسس کا پہلو بھی ہے کہ سرحد پار لوگ کیسے زندگی گزارتے ہیں۔ جب یہ نظر آتا ہے کہ ایک ہی جیسے مسئلے ہیں۔ ایک جیسا رہن سہن ہے۔ جو لڑکیاں گلیمرس ہیں وہ اتنی ہی گلیمرس ہیں، جیسی ہمارے بمبئی اور دہلی میں نظر آتی ہیں۔ اور جو مڈل کلاس کی لڑکیاں ہیں۔ وہ بھی بالکل ہمارے جیسی ہیں، تو بہت حیرت بھی ہوتی ہے اور اچھا بھی لگتا ہے۔

پاکستانی ڈرامے عام لوگوں کو پسند آئیں گے، اس کی امید تو زی نیٹ ورک کی پریانکہ دتہ اور ان کی ٹیم کو تھی۔ لیکن، انہیں یہ خدشات بھی لاحق تھے کہ کہیں لوگ پاکستانی ڈرامے بھارت میں دکھانے کی مخالفت نہ کریں۔

پریانکہ کہتی ہیں، جب ہم نے چینل لانچ کیا تھا تو اس بارے میں بہت سوچا تھا۔ کئی میٹنگز کیں کہ اس صورت میں ہم کیا کریں گے۔ لیکن، بھگوان کی دیا سے ہماری عوام کافی میچور ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کہانی ہے۔ دیکھنے کو کچھ اچھا مل رہا ہے، تو ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔

نہ صرف لوگوں نے سرحد پار سے آنےوالے ڈراموں کو پسند کیا، بلکہ حالیہ دنوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کی صورتحال کی وجہ سے بھی چینل کی ریٹنگ پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ تو کیا اس طرح کی شروعات لوگوں کو قریب لا سکتی ہے؟

مدھو گوسوامی کہتی ہیں کہ عام آدمی اس سطح پر آکر سوچتا ہے یا نہیں۔ میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ لیکن، میں اپنے طور پر یہ کہہ سکتی ہوں کہ دونوں ملکوں کے کلچر میں اتنی مماثلت ہے، تو اتنے مسائل کیوں ہیں؟ اگر میں ایسا سوچ سکتی ہوں تو اور لوگ بھی ایسا ضرور سوچتے ہونگے۔ جب رہن سہن، زبان اتنی ایک جیسی ہے تو ۔۔۔جیسے مجھے نہیں پتہ تھا کہ پاکستان میں لیڈیز ساڑھیاں بھی پہنتی ہیں ۔ میں ہمیشہ ساڑھی کو انڈیا سے associate کرتی تھی۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں کہ آپ ان کے ساتھ اپنے آپ کو identify کر سکتے ہیں۔ ان سے خود کو relate کرسکتے ہیں۔ کچھ تجسس کا ایلیمنٹ بھی ہے۔

ایک دوسرے کے بارے میں جاننے اور سمجھنے سے ایک دوسرے کے بارے میں رائے بدل سکتی ہے، اور سرحدوں پر کھنچی لکیریں دھندلی پڑ سکتی ہیں۔ زندگی چینل کی شروعات اس خیال سے تو نہیں ہوئی تھی۔ لیکن، اگر ایسا ہوتا ہے تو اچھا ہی ہے۔

تفصیلی رپورٹ سننے کے لیے آڈیو پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG