رسائی کے لنکس

’گن پوائنٹ‘ پر شادی کروائی گئی: بھارتی خاتون


ڈاکٹر عظمیٰ (فائل فوٹو)

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھارت کے ہائی کمیشن میں پناہ لینے والی بھارتی خاتون عظمٰی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ شادی کی غرض سے پاکستان نہیں آئی تھیں اور طاہر علی نے اُن سے زبردستی شادی کی۔

عظمٰی پیر کو اسلام آباد میں ایک مجسٹریٹ حیدر علی کی عدالت میں پیش ہوئیں جہاں اُنھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اُنھیں ہراساں کیا گیا اور پاکستان پہنچنے پر اُن سے سفری دستاویزات بھی لے لی گئیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے بھارتی ہائی کمیشن میں رہ رہی ہیں۔

اسلام آباد کی ذیلی عدالت نے نکاح خواں، گواہان اور طاہر علی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اُن سے اس بارے میں جواب طلب کیا ہے، اب اس معاملے کی سماعت 11 مئی کو ہو گی۔

عظمٰی کا تعلق بھارت کے شہر دہلی سے بتایا جاتا ہے اور اُن کی پاکستانی شہری طاہر علی سے ملائیشیا میں ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد وہ یکم مئی کو واہگہ بارڈ کے ذریعے پاکستان آئیں اور طاہر علی کے آبائی علاقے بونیر میں تین مئی کو اُن کی شادی ہوئی۔

بھارتی خاتون عظمٰی کا الزام ہے کہ اُن پر تشدد بھی کیا گیا اور ’’گن پوائنٹ‘‘ پر اُن کی شادی کروائی گئی۔

عدالت میں پیشی کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں عظمٰی نے کہا کہ ’’واہگہ سرحد پر اُنھیں (طاہر علی نے) نیند کی گولی دی تھی اور میں راستے میں سو گئی۔ مجھے نہیں پتہ لگا کہ وہ مجھے کہاں لے جا رہا ہے۔۔۔ بہت مشکل سے لالچ دے کر میں یہاں ہائی کمیشن تک پہنچی ہوں کہ مجھے محفوظ کیا جائے۔ ہائی کمیشن میں اپنی مرضی سے رکی ہوں، کوئی زبردستی نہیں ہے مجھ پر۔‘‘

جب کہ طاہر علی کا موقف ہے کہ اُن کی شادی عدالت میں ہوئی اور اُن کے بقول کوئی زبردستی نہیں کی گئی۔

عظمٰی کا کہنا تھا کہ بونیر پہنچنے پر اُنھیں معلوم ہوا کہ طاہر شادی شدہ اور چار بچوں کے والد ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل طاہر علی نے اتوار کو یہ موقف اختیار کیا تھا کہ جب وہ ویزے کے حصول کے لیے بھارتی ہائی کمیشن آئے تھے اس وقت اُن کا آپس میں کوئی جھگڑا بھی نہیں ہوا تھا۔

طاہر علی کا موقف ہے کہ جب وہ بھارتی ہائی کمیشن پہنچے تو اُن کو باہر روک دیا گیا جب کہ اُن کی اہلیہ اندر چلی گئیں۔

کچھ گھنٹے گزرنے کے باوجود جب وہ باہر نہیں آئیں تو اُنھوں نے ہائی کمیشن کے عملے سے عظمٰی کے بارے میں پوچھا، جس پر اُنھیں بتایا گیا کہ وہ یہاں نہیں ہیں۔ اس واقعہ کے بعد طاہر علی نے اسلام آباد کے سیکریٹیریٹ پولیس تھانے میں رپورٹ بھی درج کروائی۔

اُدھر اتوار کی شب پاکستان کی وزارت خارجہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ بھارتی ہائی کمیشن کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ 20 سالہ خاتون عظمٰی نے از خود اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن سے رابطہ کیا اور وطن واپس بھیجنے کی درخواست کی۔

وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن نے بتایا کہ عظمیٰ نے پاکستانی شہری طاہر علی سے شادی کی، لیکن بعد میں اُنھیں یہ معلوم ہوا کہ طاہر پہلے سے شادی شدہ اور چار بچوں کے والد ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG