رسائی کے لنکس

حکومتِ بھارت کی جانب سے اِس سال کے اوائل میں اعلان کردہ سرکاری منصوبے کے تحت، 64275 بھارتیوں نے نام نہاد ’کالے دھن‘ کا اعلان کیا، جس کے لیے دی گئی چار ماہ کی میعاد جمعے کے روز ختم ہوئی

گذشتہ چار ماہ کے دوران، لاکھوں بھارتیوں نے آگے بڑھ کر مجموعی طور پر 9.5 ارب ڈالر کی آمدن کا اعلان کیا ہے، جس سے قبل اِسے نہ تو رپورٹ کیا گیا تھا ناہی اُس پر ٹیکس ادا کی گئی تھی۔ اِس بات کا اعلان ہفتے کے روز بھارتی وزیر مالیات، ارون جیٹلے نے کیا ہے۔

جیٹلے نے کہا ہے کہ یہ عدد بڑھ سکتا ہے، چونکہ کچھ اعلانات کا ابھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جیٹلے کی جانب سے اِس سال کے اوائل میں اعلان کردہ سرکاری منصوبے کے تحت، 64275 بھارتیوں نے نام نہاد ’کالے دھن‘ کا اعلان کیا، جس کے لیے دی گئی چار ماہ کی میعاد جمعے کے روز ختم ہوئی، جس پیکیج میں کہا گیا ہے کہ اِن رقوم پر 45 فی صد شرح کی ٹیکس کی ادائگی سے واجب سزا سے بچا جاسکے گا۔

سنہ 2014 میں منتخب ہونے کے بعد، وزیر اعظم نریندر مودی جنھوں نے ٹیکس نادہندگان کے خلاف اقدام کا عہد کیا تھا، اُنھوں نے جیٹلے اور جن افراد نے ہفتے کے روز تک کالے دھن کا اعلان کیا دونوں کو مبارکباد پیش کی ہے۔

اپنے سرکاری اکاؤنٹ سے ایک ٹوئیٹ میں، اُنھوں نے کہا کہ ’’میں اُن سب لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں جنھوں نے 2016 کے مالی سال کے دوران واجب الادا ٹیکس جمع کیا۔ یہ بات معیشت کی شفافیت اور افزائش کی جانب ایک بڑا قدم ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومتِ بھارت کی جانب سے ٹیکس میں چھوٹ کی یہ پہلی پیش کش نہیں۔ جیٹلے نے کہا ہے کہ سنہ 1997 میں اسی پروگرام کے تحت حکومت کو 1.5 ارب ڈالر میسر آئے تھے۔

اپریل میں نام نہاد ’پاناما پیپرز‘ جاری ہونے کے بعد حکومت کو ایسے اقدام کی مخالفت کا سامنا رہا ہے، جس میں اُن افراد اور کمپنیوں کے نام درج تھےجنھوں نے ٹیکس سے بچنے کے لیے پاناما میں کمپنیاں کھولیں۔ اِن میں الزام دیے جانے والے بھارتیوں کی تعداد تقریباً 500 ہے۔

XS
SM
MD
LG