رسائی کے لنکس

ہنری بامبانگ سوئیلسٹو نے صحافیوں کو بتایا کہ کیوں کہ اسی حصے میں ’’بلیک باکس‘‘ اور فلائیٹ ڈیٹا ریکارڈر ہوتے ہیں جن سے حادثے کی وجوہات جاننے میں مدد مل سکتی ہے۔

حادثے کا شکار ہونے والی ایئر ایشیا کی پرواز 8501 کے ملبے کی تلاش کا کام کرنے والے مشن کے سربراہ نے بتایا ہے کہ بحیرہ جاوا سے جہاز کا پچھلا حصہ مل گیا ہے۔

انڈونیشیا کی سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے سربراہ ہنری بامبانگ سوئیلسٹو نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ کیوں کہ اسی حصے میں ’’بلیک باکس‘‘ اور فلائیٹ ڈیٹا ریکارڈر ہوتے ہیں جن سے حادثے کی وجوہات جاننے میں مدد مل سکتی ہے۔

امدادی کاموں میں مصروف ٹیمیں مسلسل جہاز کے پچھلے حصے کی تلاش میں مصروف تھیں۔

یہ طیارہ 28 دسمبر کو انڈونیشیا سے سنگاپور جاتے ہوئے لاپتا ہو گیا تھا اور گزشتہ بدھ کو اس جہاز کے ملبے کے حصوں کی نشاندہی بحیرہ جاوا میں ہوئی تھی۔

جہاز پر عملے سمیت 162 افراد سوار تھے جن میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا۔ آسٹریلیا سے فرانزک ماہرین کی ایک ٹیم بھی انڈونیشیا پہنچی جو اب تک ملنے والی 40 لاشوں کی شناخت کے عمل میں حصہ لے رہی ہے۔

رواں ہفتے موسم میں بہتری کے بعد طیارے کے ملبے اور مسافروں کی لاشوں کی تلاش کے کام کو مزید علاقے تک بڑھا دیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق سمندر میں زیرآب تلاش کے لیے تمام آلات استعمال کیے جا رہے ہیں۔ جب کہ غوطہ خور بھی پانی کی گہرائی میں تلاش کے کام میں مصروف ہیں۔

انڈونیشیا کی حکومت نے محکمہ ہوا بازی کے متعدد حکام کو اس انکشاف کے بعد معطل کر دیا کہ ایئرایشیا کی فلائیٹ 8501 کو حادثے کے روز پرواز کی باقاعدہ اجازت نہیں تھی۔

وزارت ٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ فضائی کمپنی کو انڈونیشیا کے شہر سورابایا سے سنگاپور کے لیے صرف پیر، منگل، بدھ اور ہفتہ کو پروازوں کی اجازت دی گئی تھی جب کہ تباہ ہونے والا جہاز اتوار کو سفر کر رہا تھا۔

XS
SM
MD
LG