رسائی کے لنکس

انڈونیشیا میں متبادل ایندھن کے استعمال میں اضافے کا رجحان

  • سارا ہارٹ

انڈونیشیا کے صدر یودہونو

انڈونیشیا کے صدر یودہونو

انڈونیشیا میں کئی کاروباری ادارے اپنی توانائی کے بلوں میں بچت کے لیے جدیدٹیکنالوجی اور گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کم کرنے کے اقدامات کررہے ہیں۔
انڈونیشیا ہرسال فضا میں تقریباً دو ارب ٹن گرین ہاؤس گیسوں کا اضافہ کرتا ہے اور اس سے وہ کاربن گیسیں پیدا کرنے والا دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ملک بن چکاہے۔ مضر صحت اور گلوبل وارمنگ کا باعث بننے والی ان گیسوں کے اخراج میں صنعت کا حصہ دس فی صد سے بھی کم ہے، لیکن کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ ماحول دوست توانائی کے استعمال سے ،ماحول کو بہتر بنانے کے علاوہ بھی،انہیں فائدہ پہنچ رہاہے۔
کچھ کثیر الملکی اور انڈونیشی کمپنیوں کوتوقع ہے کہ وہ کاربن کریڈٹ کے ذریعے اپنی آمدنیوں میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ جب کہ دوسری کمپنیوں کا کہناہےکہ توانائی بچانے کے اقدامات کے ذریعے ان کا منافع بڑھ سکتا ہے اور اس کےساتھ ساتھ وہ ماحول کوبہتر بنانے اوروہ ذمہ داریاں نبھا سکتے ہیں جو معاشرے کی طرف سے ان پر عائد ہوتی ہیں۔
انڈونیشیا میں تیل اور گیس کی کمپنیاں ، پیدواری عمل کے دوران خارج ہونے والی اضافی گیسوں کو توانائی کے لیے دوبارہ قابل استعمال بنانے کے لیے کام کررہی ہیں۔
ملک میں ماحول دوست توانائی کے کئی منصوبے جزوی طورپر بائیوگیس اور پن بجلی پر کام کررہے ہیں۔انڈونیشا کی سب سے بڑی کمپنی پی ٹی انڈو ٹیرٹا سوکا، نباتاتی کھاد سے خارج ہونے والی میتھین گیس کو دوبارہ استعمال میں لاکر اس سے توانائی پیدا کررہی ہے۔
انڈونیشیا کی سیمنٹ کی سب سے بڑی کمپنیاں انڈوسیمنٹ اور ہول کم نباتات اور کچرے کو اپنی بھٹیوں میں جلاکراپنے کوئلے کا استعمال کم کررہی ہے۔
ون سنٹ ، ہل کم کمپنی میں کچرے سے ایندھن پیدا کرنے والے شعبے کے منیجر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مختلف اقسام کی ضائع شدہ اشیا کو کمپنی بطور ایندھن استعمال کررہی ہے۔ جن میں الیکٹرانکس مصنوعات تیار کرنے والی کمپنیوں کے فضلے سے لے کرضائع شدہ تیل اور میونسپل اداروں کا اکٹھا کردہ کورڑ کرکٹ تک شامل ہوتا ہے۔
تمام کچرے اور کوڑا کرکٹ کو ایک مشین میں ڈالاجاتا ہے اور پھر اسے سیمنٹ پلانٹ کی دوبڑی بھٹیوں میں جلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
جیو سائیکل کمپنی ایک سو سے زیادہ مختلف کمپنیوں کا کچرا اکھٹا کرتی ہے جس میں سلے سلائے کپڑے بنانے والی کمپنیوں سے لے کر میٹھی گولیاں بنانے والی کمپنیاں تک شامل ہیں۔
ون سنٹ کا کہنا ہے کہ جیوسائیکل کو توقع ہے کہ وہ مزید صنعتی فضلے کو اکھٹا کرسکتی ہے جسے کبھی کبھار دوسرے ممالک میں پراسسنگ کےلیے بھیجا جاتا ہے، اورجس پر انڈسٹری کو بھاری اخراجات ادا کرنے پڑتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں آلودگی کی قیمت، یا آلودگی کے ساتھ رہنے کی قیمت، آلودگی سے بچاؤ پر اٹھنے والی قیمت سے کہیں زیادہ ہے ۔ مثال کے طور پر ہم کچرے اور صنعتی فضلے کو ٹھکانے لگانے پر رقم صرف کرتے ہیں۔ لیکن اگر ہم اس کی بجائے اپنے دریاؤں اور اپنے ساحلوں اور اپنے پہاڑوں اور وادیوں کوآلودہ کردیں تو انڈونیشیا جسے ملک کے لیے جہاں مثال کے طورپر سیاحت کے بہت مواقع موجود ہیں۔۔ تو پھر یہ نقصان بہت زیادہ ہوسکتا ہے۔
انڈوسیمنٹ کا متبادل ایندھن کا پراجیکٹ چاول،لکڑی کے برادے، استعمال شدہ ٹائروں اورچھال سے بنے ایندھن کے استعمال سےگیسوں کے اخراج میں کمی لارہاہے۔ یہ دونوں کمپنیاں اقوام متحدہ کے آب و ہوا کی تبدیلی کے کنونشن کے تحت رجسٹر ہیں۔
اس معاہدے کے تحت ، ایسے ادارے جوگرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کم کرنے والے منصوبے چلارہے ہیں، اس کا کریڈٹ حاصل کرسکتی ہیں ، جسے وہ ان صنعتی ممالک کو بیچ سکتے ہیں جنہیں کیوٹو پروٹوکول کے تحت گیس کے اخراج کی اہداف کی پابندیوں کا سامنا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ گرین ہاؤس گیسیں گوبل وارمنگ کا ایک اہم سبب ہیں۔ ان میں سے اکثر گیسیں ، جن میں کاربن ڈائی اکسائیڈ بھی شامل ہے، ایندھن مثلاً کوئلہ اور تیل جلانے سے پیدا ہوتی ہیں۔
گیسوں کے اخراج کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے فریم ورک میں رجسٹریشن کی منظوری کے لیے لمبے عرصے اور اس کے پیچیدہ نظام کے باعث کمپنیوں کو کچھ مشکلات درپیش ہیں۔
اس پراجیکٹ میں انڈونیشیا کی 48 کمپنیاں درج ہیں ، جب کہ چین کی تقریباً ایک ہزار کمپنیاں ہیں اور بھارت میں ایسی کمپنیوں کی تعداد 500 سے زیادہ ہے۔
ایگن سفورڈ کمپنیوں کو اپنے کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی لانے میں مدد دینے والی ایک کمپنی گرین ورکس ایشیا کی منیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انڈونیشیا گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کم کرنے میں ابھی تک کئی ممالک سے پیچھے ہے جس کی ایک جزوی وجہ ماحول کے تحفظ سے متعلق قوانین کا نہ ہونا ہے۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ قانونی بندشیں نہ ہونے کے باوجود توانائی بچانے کے اقدامات پر عمل کرنا اس لیے ضروری ہے کہ اس سے اخراجات میں کفایت ہوتی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ معمولی تبدیلی نمایاں اثرات لاسکتی ہے اور اس سے نہ صرف کاروباری افراد کو بچت ہورہی ہے بلکہ انہیں یہ احساس بھی ہورہاہے کہ وہ ماحول کو آلودہ ہونے سے بچانے کے لیےاپنی ذمہ داریاں نبھار ہے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG