رسائی کے لنکس

انڈونیشیا کا آسٹریلیا سے فوجی تعاون معطل کرنے کا اعلان


انڈونیشیا کے صدر سوسیلو بامبانگ یودویونو (فائل فوٹو)

انڈونیشیا کے صدر سوسیلو بامبانگ یودویونو (فائل فوٹو)

انڈونیشیا کے صدر کا کہنا تھا کہ وہ کنبیرا سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن دونوں ممالک فوجی اور انٹیلیجنس کے شعبے میں تعاون جاری نہیں رکھ سکتے جب تک جاسوسی کا اسکینڈل حل نہیں ہوتا۔

انڈونیشیا کے صدر سوسیلو بامبانگ یودویونو نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے روایتی اتحادی آسٹریلیا سے فوجی اور انٹیلیجنس تعاون معطل کر رہا ہے۔

ان کی طرف سے یہ اعلان بدھ کو ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں ایسے وقت کیا گیا جب حال ہی میں یہ الزامات سامنے آئے کہ جاسوسی سے متعلق آسٹریلوی اداروں کے اہلکاروں نے متعدد افراد کے علاوہ 2009ء میں خود مسٹر یودویونو کے موبائل فون پر گفتگو کی 15 روز تک نگرانی کی تھی۔

انڈونیشیا کے صدر کا کہنا تھا کہ وہ کینبرا سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، لیکن دونوں ممالک فوجی اور انٹیلی جنس تعاون جاری نہیں رکھ سکتے جب تک کہ جاسوسی کا اسکینڈل حل نہیں ہو جاتا۔

’’میرے لیے یہ انتہائی سنجیدگی معاملہ ہے ... اس (جاسوسی کے عمل سے) حقوقِ انسانی کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔‘‘

جکارتہ کے اس اقدام سے لوگوں کی اسمگلنگ سے متعلق آپریشن، مشترکہ فوجی تربیتی مشقیں اور سمندری نگرانی کی کارروائیاں متاثر ہوں گی۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ تعاون کی معطلی کب سے شروع ہوگی۔

آسٹریلوی وزیر اعظم ٹونی ایبٹ کہہ چکے ہیں کہ آسٹریلیا جاسوسی کے ان الزامات پر انڈونیشیا سے معافی نہیں مانگے گا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انڈونیشیا کے رہنما نے اپنے پیغاموں میں آسٹریلوی وزیر اعظم کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا تھا کہ مسٹر ایبٹ نے اس ’’ضرر رساں‘‘ واقعے پر کسی قسم کی ندامت کا اظہار نہیں کیا بلکہ وہ اسے غیر اہم قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جاسوسی کے اس انکشاف کے بعد جکارتہ کینبرا سے اپنے سفیر کو واپس بلا چکا ہے۔

آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن اور برطانوی روزنامے گارڈین کی خبروں کے مطابق امریکی نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے سابق کنٹریکٹ ملازم ایڈورڈ اسنوڈن کی طرف سے افشا کی گئی دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ آسٹریلوی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے انڈونیشیا کے صدر کے علاوہ ان کی اہلیہ کرسٹیانی ہیراوتی کی فون پر بات چیت بھی ریکارڈ کی تھی۔
XS
SM
MD
LG