رسائی کے لنکس

ایئر ایشیا: تباہ شدہ طیارے کے ملبے کی تلاش جاری


فائل فوٹو

فائل فوٹو

امدادی کارکنوں نے پرسکون سمندر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انڈونیشیا سے سنگاپور جاتے ہوئے گر کر تباہ ہونے والے طیارے کے ملبے اور مسافروں کی لاشوں کی تلاش کے کام کو پھیلا دیا ہے۔

ایئر ایشیا کے تباہ ہونے والے مسافر طیارے کے ملبے اور مسافروں کی لاشوں کی تلاش کے کام پر مامور ٹیموں نے پیر کو بحیرہ جاوا میں موسم بہتر ہونے کے بعد تلاش کے کام کو مزید وسیع علاقے تک پھیلا دیا ہے۔

پیر کو تین مزید لاشوں کو برآمد کیا گیا ہے۔ ابھی تک 37 لاشوں میں سے صرف نو کی شناخت ہو سکی ہے۔

تلاش کے نویں روز امدادی ٹیموں نے پرسکون سمندر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انڈونیشیا سے سنگاپور جاتے ہوئے گر کر تباہ ہونے والے طیارے کے ملبے اور مسافروں کی لاشوں کی تلاش کے کام کو پھیلا دیا ہے۔

28 دسمبر کو انڈونیشیا سے سنگاپور جاتے ہوئے ایئر ایشیا کی پرواز 8501، لاپتا ہو گئی تھی جس کے بارے میں گزشتہ منگل کو معلوم ہوا یہ بحیرہ جاوا میں گر کر تباہ ہو گئی۔ اس پر عملے سمیت 162 افراد سوار تھے۔

گزشتہ ہفتہ کے دوران خراب موسم کے باعث تلاش کا عمل خلل کا شکار رہا۔

اتوار کو پانی کے دھندلا ہونے کی وجہ سے غوطہ خوروں کو اس وقت واپس آنا پڑا جب عہدیداروں کے بقول وہ اس مقام کے قریب ہی تھے جہاں ان کے خیال کے مطاق تباہ ہونے والے طیارے کے ملبے کے پانچ بڑے ٹکڑے موجود ہو سکتے ہیں۔

طیارے کے ملبے کو تلاش کرنے والی ٹیموں کو اس بارے میں پر اُمید ہے کہ وہ اس مقام پر پہنچ جائیں گے جہاں ان کے خیال میں طیارے کا مرکزی حصہ موجود ہو سکتا ہے اور جہاں سے پرواز کا ڈیٹا رکھنے والا "بلیک باکس" برآمد کیا جا سکتا ہے۔

انڈونیشیا کی سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے ایک عہدیدار نے اتوار کو کہا کہ خیال کیا جا رہا ہے کہ جہاز کا فیوزلاژ (مرکزی حصہ جہاں مسافر بیٹھتے ہیں) ٹوٹ کر کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

انڈونیشیا کے محکمہ موسمیات کے مطابق خراب موسم بھی ایک وجہ ہے جس کی بنا پر طیارہ بحیرہ جاوا میں گر کر تباہ ہوا۔ ایجنسی کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی معلومات کے مطابق گزشتہ دس سالوں کے دوران کئی اور جہازوں کو درپیش آنے والے تجربات کا ذکر کیا گیا ہے جنہیں طوفانوں میں انجن کی خرابی اور ہچکولوں کا سامنا کرنا پڑا۔

مسافر طیارے کے پائلٹ نے اڑان بھرنے سے پہلے اور پرواز کے دوران ایئرٹریفک کنٹرولر سے مقررہ حد سے بلند ہونے کی اجازت طلب کی تھی تاکہ وہ جہاز کو خراب موسم سے بچا سکے۔ لیکن انھیں یہ کہہ کر اجازت نہیں دی گئی کہ اس مقام پر دیگر جہاز پرواز کر رہے ہیں۔

انڈونیشا کے عہدیداروں نے بتایا ہے کہ 28 دسمبر کو بحیرہ جاوا میں گر کر تباہ ہونے والی فلائٹ کے پاس اس دن اس روٹ پر پرواز کرنے کا لائسنس نہیں تھا۔

XS
SM
MD
LG