رسائی کے لنکس

انڈونیشیا: صدر اوباما کے مجوزہ دورے پر کانفرنس


انڈونیشیا: صدر اوباما کے مجوزہ دورے پر کانفرنس

انڈونیشیا: صدر اوباما کے مجوزہ دورے پر کانفرنس

انڈونیشیا کے راہنما اور دانش ور اس بارے میں بات چیت کے لیے منگل کےروز جکارتا میں اکٹھے ہوئے کہ امریکی صدر باراک اوباما کاانڈونیشیا کا آئندہ کادورہ تعلیم ، آب و ہوا کی تبدیلی اور تجارت جیسے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات بہتر بنانے میں کس طرح مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔

امریکہ اور انڈونیشیا کے درمیان تعلقات میں گذشتہ کئی برسوں کے دوران کئی نشیب و فراز آئے ہیں لیکن صدر اوباما کے منتخب ہونے کو، جنہوں نے اپنے بچپن کا کچھ حصہ انڈونیشیا میں گذارا تھا، وہاں کے راہنما امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کا از سرنو جائزہ لینے اور تعاون میں بہتری لانے کے لیے کام کرنے کا ایک نیا موقع سمجھ رہے ہیں۔

بین الاقوامی امور سے متعلق صدر سوسیلو بمبانگ یودھویونو کے خصوصی مشیر دینو پتی جلال کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے موجودہ تعلقات کی بنیاد جذبات پر نہیں بلکہ قومی مفادات اور امریکہ کی جانب سے انڈونیشیا کے اقتدار اعلیٰ کا احترام کرنے کے ساتھ ساتھ خود اس کے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کام کرنے کی ضرورتوں پر ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم اپنے تعلقات کے اعتبار سے ایک خود مختار ملک ہیں۔ ہمارا کسی کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں ہے، نہ تو امریکہ کے ساتھ اور نہ ہی اپنے پڑوسیوں کے ساتھ۔ اس لیے ہم ہمیشہ اس سلسلے میں خودمختار رہے ہیں اور یہی ہماری سفارتی روایات اور قومی نفسیات کا حصہ ہے، اور اب جب یہ تعلقات آگے بڑھیں گے تو امریکہ کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اس سفارتی شراکت داری کا احترام کرے۔

جب 1997ء میں امریکہ نے ایشیائی مالیاتی بحران کے سلسلے میں وہاں اپنی سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیا تھا اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی بنا پر انڈونیشی فوج کو اسلحے کی فروخت پر پابندیاں عائد کردی تھیں تو گذشتہ عشرے میں انڈونیشیا میں امریکہ کا تاثر خراب ہوگیاتھا۔

دینو کا کہنا ہے کہ وہ صدر اوباما کے دورے کو ماضی کے پرانے معاملات پس پشت ڈال کر متوازن تبادلے کے لیے کام کرنے کا ایک موقع سمجھتے ہیں۔

دینو کہتے ہیں کہ اب جب کہ ہم امریکہ کے ساتھ ، جوا یک سپر پاور ہے، اپنے تعلقات بڑھا رہےہیں، تو کبھی کبھی کچھ لوگ اسے پسند نہیں کرتے اور بعض اوقات تو وہ اس حوالے سے دفاعی انداز بھی اپناتے ہیں، لیکن ہمیں یہ باور کرنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ ایک سپر پاور ہے اور انڈونیشیا اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو اس اندازمیں بتدریج آگے بڑھنا ہوگا جس میں ہم دونوں ملک برابری کی سطح پر کام کریں۔

اگرچہ منگل کے روز کی بات چیت میں زیادہ تر سیاسی موضوعات زیر بحث آئے ،تاہم تجارت کے فروغ، تعلیمی تبادلے ، آب و ہوا کی تبدیلی میں تعاون پر بھی بات ہوئی۔ آب وہوا سے متعلق انڈونیشیا کی کونسل کے ایکزیکٹو چیئر مین رچماد ویٹوئلر کا کہنا ہے کہ اب جب امریکی کانگریس کاربن کے اخراج میں کمی کے طریقوں پر اختلافات کا شکار ہے، مسٹر اوباما کو اس تاثر میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کہ امریکہ ماحولیاتی امور کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کو ہمیں یہ بتانا ہوگا کہ امریکی قوم آب و ہوا کی تبدیلی کو اہمیت دیتی ہے۔

اس کانفرنس کا اختتام ،دونوں ملکوں کے درمیان بہتر افہام تفہیم کی ضرورت کو اجاگر کرنے پر ہوا، جو اپنی انفردیت رکھنے کے ساتھ ساتھ کئی مشترک پہلو بھی رکھتے ہیں۔ اور یہ چیز دونوں فریقوں سے دنیا میں اپنے اپنے کردار کے تعین کا تقاضا کرتی ہے۔ اوراب جب کہ امریکہ جنوب مشرقی ایشیا میں اپنے مفادات کے بارے میں واضح نہیں ہے، کانفرنس میں شریک بہت سے راہنماؤں کا کہنا تھا کہ اب راستہ ہموار کرنے کا انحصار انڈونیشیا پر ہے۔

XS
SM
MD
LG