رسائی کے لنکس

سنگاپور، انڈونیشی رشوت خوروں کی جنت


سنگاپور، انڈونیشی رشوت خوروں کی جنت

سنگاپور، انڈونیشی رشوت خوروں کی جنت

سنگاپور ایک عرصے سے انڈونیشیا سے دولت لوٹ کر فرار ہونے والوں کا محفوظ ٹھکانہ رہاہے۔ دونوں ممالک نے 2007ء میں ایسے افراد کو ملک سے باہر نکالنے سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کی تاحال انڈونیشیا کی پارلیمنٹ سے توثیق نہیں ہوسکی۔ ماہرین کا کہناہے کہ اس کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان موجود سفارتی تعطل ہے۔

حالیہ برسوں میں انڈونیشیا میں کرپشن اور بدعنوانی میں ملوث کئی افراد بھاگ کرسنگاپور میں پناہ حاصل کرچکے ہیں۔جن میں ایسے بینک مالکان بھی شامل ہیں جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایشیا ء کے مالیاتی بحران کے دوران بیل آؤٹ پروگرام سے مبینہ طورپر کروڑوں ڈالر لوٹ لیے تھے۔

اس سلسلے میں انڈونیشیا سے فرار ہونے والی تازہ ترین شخصیت ڈیموکریٹ پارٹی کے خزانچی محمد نذر الدین کی ہے۔ وہ پارلیمنٹ کے رکن رہ چکے ہیں اور انہیں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی کھیلوں کے دوران بڑے پیمانے پر رشوت کے مبینہ الزامات کے بعد اپنی نششت سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔ پچھلے ماہ انہیں کولمبیا نے اپنے ملک سے نکال دیاتھا۔

ان سے قبل ایک معروف کاروباری خاتون نونم نرباتی بھی سنگاپور فرار ہوچکی ہیں۔ ان پر کئی دیگر قانون سازوں ساتھ کرپشن کے الزامات میں مقدمہ درج ہوا تھا۔ جس کے بعد سے انہیں انڈونیشیا میں نہیں دیکھا گیا۔

انڈونیشیا کی وزارت خارجہ یہ تسلیم کرتی ہے کہ جلاوطنی سے متعلق معاہدے سے رشوت ستانی میں کمی آسکتی ہے ، لیکن حکومت اسے ترامیم کے بغیر منظور کرنا نہیں چاہتی۔

وزارت خارجہ کے ترجمان مائیکل تینے کہتے ہیں کہ معاہدے کا موجودہ مسودے میں مطلوبہ افراد کی جلاوطنی اور سنگاپور کی فوج کو تربیت کی سہولت فراہم کے لیے کہا گیا ہے۔

سنگاپور نے ابھی تک کرپشن کے حالیہ الزامات میں ملوث کسی انڈونیشی باشندے کو نہ تو گرفتار کیا ہے اور نہ ہی ملک سے نکالا ہے، کیونکہ اس سلسلے میں کئی سفارتی دشواریاں حائل ہیں۔

صدر سوسیلو بامبانگ یودھویونو کی جانب سے انسداد رشوت ستانی کی مہم کے باوجود انڈونیشیا کا شمار اب بھی دنیا کے انتہائی رشوت خور ممالک میں ہوتا ہے۔

انڈونیشیا کے جن افراد پر کرپشن اور رشوت ستانی کے الزامات ہیں ، ان میں سے تقریباً 40 فی صد یا تو اس وقت پارلیمنٹ کے رکن ہیں یا اس سے قبل رکن رہ چکے ہیں۔ بعض لوگوں کا کہاہے کہ یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ سنگاپور بھاگ جانے والے افراد کی جلاوطنی سے متعلق معاہدے کی منظوری میں دلچسپی نہیں لے رہی ۔

2006ء میں مریل لنچ اور کیپ گم مینی کی رپورٹ میں کہا گیاتھا کہ اس وقت سنگار پور مقیم 55 ہزار کروڑ پتیوں میں تقریباً ایک تہائی انڈونیشی باشندے تھے جن کی دولت کا تخمینہ 87 ارب ڈالر تھا۔

XS
SM
MD
LG