رسائی کے لنکس

ایئر ایشیا کے" ڈیٹا ریکارڈر " کی تلاش کی کوششیں جاری


فائل فوٹو

فائل فوٹو

حکام کو اُمید ہے کہ باقی لاشوں کو تباہ ہونے والے جہاز کے چار یا زیادہ حصوں میں سے برآمد کیا جا سکتا ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ سمندر کی تہہ میں ہیں

انڈونیشیا کے حکام نے 28 دسمبر کو بحیرہ جاوا میں گر کر تباہ ہونے والے طیارے کے عقبی حصے کو برآمد کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

انڈونیشیا کی فوج کے سب سے بہتر ین تربیت یافتہ غوطہ خور جمعرات کو شدید بحری لہروں کے باوجود جہاز کے "وائس ڈیٹا ریکارڈر " کو برآمد کرنے کے لیے ملبے کی تلاش کرتے رہے جس سے یہ پتہ چلانے میں مدد ملے گی کہ جہاز کیوں تباہ ہوا۔

جہاز کے پچھلے حصے کی نشاندہی بدھ کو سمندر کی تہہ میں اس جگہ سے 30 کلومیٹر دور کئی گئی ہے جہاں آخری مرتبہ جہاز کے ملبے کی نشاندہی ہوئی اور یہاں سمندر کی گہرائی 28 سے 32 میڑ ہے۔

ایئر ایشیا کی پرواز 8501 شمالی بحیرہ جاوا میں ریڈار سے اس وقت غائب ہو گئی جب وہ انڈونیشیا کے دوسرے بڑے شہر سورابایا سے سنگاپور جاتے ہوئے اسے پرواز کرتے ہوئے صرف دو گھنٹے ہی ہوئے تھے۔

جہاز پر عملے سمیت 162 افراد سوار تھے جن میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچا۔ ابھی تک 37 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

حکام کو اُمید ہے کہ باقی لاشوں کو تباہ ہونے والے جہاز کے چار یا زیادہ حصوں میں سے برآمد کیا جا سکتا ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ سمندر کی تہہ میں ہیں۔

جہاز کے اڑان بھرنے سے پہلے اور پرواز کے آخری لمحات میں پائلٹ نے ایک طوفان سے بچنے کے لیے زیادہ بلندی پر پرواز کرنے کی درخواست کی۔ اس درخواست کو اس لیے منظور نہ کیا گیا کیونکہ اس وقت دوسرے طیارے اس بلندی پر پرواز کر رہے تھے۔

XS
SM
MD
LG