رسائی کے لنکس

ہم نے غلاموں کی طرح کام کیا: انڈونیشیا کے ماہی گیر


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

جنوبی افریقہ کے متعلقہ حکام نے غیر قانونی ماہی گیری کے الزام میں سات کشتیوں کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا، اور ان پر سوار 75 ماہی گیروں کو تین ماہ بعد ساحل پر اترنے کی اجازت دی گئی۔

انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے درجنوں ماہی گیروں نے کہا ہے کہ انھیں زبردستی غلامانہ طرز کے حالات میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔

جنوبی افریقہ کے متعلقہ حکام نے غیر قانونی ماہی گیری کے الزام میں ان کی سات کشتیوں کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

یہ کشتیاں تین ماہ تک کیپ ٹاؤن کے قریب سمندر میں موجود رہیں اور بالآخر ہفتہ کو مقامی حکام نے ان پر سوار 75 ماہی گیروں کو ساحل پر اترنے کی اجازت دی۔

حکام نے کشتیوں کے کپتانوں کو گرفتار کر لیا تھا مگر ابتدا میں اُنھوں نے ماہی گیروں کو دستاویزات کی عدم دستیابی کی بنا پر ساحل پر اترنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

اُنھیں یہ اجازت مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہوئی ان خبروں کے بعد دی گئی کہ ماہی گیروں کو انتہائی کم خوراک دستیاب ہے۔

ایک ماہی گیر نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ جب اُس کی کشتی سمندر میں موجود تھی تو اُس نے بغیر اجرت کے کئی کئی گھنٹوں تک کام کیا۔

’’حالات بہت، بہت ہی برے تھے۔ کبھی تو ہم نے غلاموں کی طرح کام کیا۔ میں صبح 3 بجے کام شروع کرتا تو دوسرے روز 2 بجے ختم کرتا۔ دن میں ایک یا دو گھنٹے سونے کو ملتے تھے۔‘‘

جنوبی افریقہ میں مقیم بحری امور کے قانون دان ایلن گولڈبرگ کا کہنا ہے کہ وہ مقامی حکام سے یہ معاملہ طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’’انھوں نے کشتیوں کو تحویل میں اس لیے لے رکھا ہے تاکہ (انھیں فروخت کرکے) ماہی گیروں کو ا’ن کی اجرت کی فراہمی ممکن ہو اور انھیں واپس انڈونیشیا بھیجا جا سکے۔‘‘

ماہی گیروں کو جوہانسبرگ بھیج دیا گیا ہے۔

بھاری اجرت کے وعدوں پر انڈونیشیا کے کئی شہری ماہی گیری کی صنعت میں آتے ہیں، لیکن ان میں سے اکثر اتنی سوجھ بوجھ نہیں رکھتے کے وہ کشتیوں کے مالکان کی جانب سے غیر قانونی کام کرنے کے مطالبات سے انکار کر سکیں۔
XS
SM
MD
LG