رسائی کے لنکس

انڈونیشیا: سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے 24 ہلاک


فائل فوٹو
فائل فوٹو

متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں جن میں رضاکاروں کے علاوہ پولیس اور فوج کے اہلکار بھی حصہ لے رہے ہیں۔

انڈونیشیا میں اتوار کو سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے کم ازکم 24 افراد ہلاک اور متعدد لاپتا ہو گئے۔

حکام نے بتایا کہ جاوا میں درجنوں مکانات مٹی کے تودوں تلے دب گئے جب کہ 16 مختلف اضلاع میں ہزاروں گھروں کو دو روز سے ہونے والی بارش اور سیلاب سے نقصان پہنچا ہے۔

مرنے والوں میں دو دس سالہ بچے اور ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہیں۔

آفات سے نمٹنے کے قومی محکمے کے ترجمان سوتوپو پروو نوگروہو کے مطابق پوروریجو کے علاقے میں 26 دیہاتی لاپتا ہیں جب کہ یہاں 11 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

ان کے بقول سات افراد کوبومن اور چھ بنجارنیگارا کے اضلاع میں سیلابی صورتحال سے موت کا شکار ہوئے۔

متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں جن میں رضاکاروں کے علاوہ پولیس اور فوج کے اہلکار بھی حصہ لے رہے ہیں۔

مٹی کے تودے گرنے اور سیلابی ریلے سے لاپتا ہونے والے افراد کی تلاش کے لیے غوطہ خوروں سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔

متاثرہ علاقے انتہائی گنجان آباد ہیں اور اسی بنا پر سیلابی صورتحال یہاں قابل ذکر نقصان کا باعث بنتی ہے۔ متاثرین کے لیے عارضی پناہ گاہیں بھی قائم کر دی گئی ہیں۔

17 ہزار جزائر پر مشتمل ملک انڈونیشیا میں شدید بارشیں اکثر سیلاب کی صورتحال پیدا کر دیتی ہیں جن سے ہزاروں افراد متاثر ہوتے ہیں۔

اس ملک میں مٹی کے تودہ گرنا بھی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ گزشتہ ماہ مغربی علاقے میں ایک سیاحتی مقام پر تفریح کے لیے آنے والے 15 طلبا مٹی کے ایک تودے کی زد میں آکر ہلاک ہو گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG