رسائی کے لنکس

گزشتہ ایک دہائی کے دوران انڈونیشیا کی ائیر فورس کے کسی جہاز کو پیش آنے وال یہ چھٹا مہلک حادثہ ہے۔

انڈونیشیا کے حکام کا کہنا ہے کہ فوجی طیارے کے گرنے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 141 ہو گئی ہے جبکہ طیارے کے ملبے میں تلاش کا کام جاری ہے۔

نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والا ہرکولیس سی۔130 منگل کو انڈونیشیا کے تیسرے بڑے شہر میڈن میں ایک ہوائی اڈے سے اڑنے کے چند منٹ بعد دو گھروں اور ایک ہوٹل کی عمارت پر گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

سماٹرا جزیرے کے رہائشی علاقے میں گرنے والے طیارے میں سوار افراد میں سے کوئی زندہ نہیں بچا۔

ائیر فورس کے چیف ائیر مارشل ایگس سپریاٹنا کے مطابق پائلٹ نے طیارہ گرنے سے قبل کنٹرول ٹاور سے کہا تھا کہ انجن میں خرابی کے باعث وہ طیارہ واپس اتارنا چاہتے ہیں۔

حکام کا اصرار ہے کہ 51 سال پرانا چار انجن والا یہ جہاز اچھی حالت میں تھا۔

ایوی ایشن سیفٹی نیٹ ورک کے مطابق اس حادثے سے ملک میں ہوابازی کے معیار پر ایک بار پھر تشویش پیدا ہوئی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران انڈونیشیا کی ائیر فورس کے کسی جہاز کو پیش آنے وال یہ چھٹا مہلک حادثہ ہے۔

انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو نے بدھ کو اس واقعے کی مکمل تحقیقات اور دفاعی سازوسان پر نظر ثانی کا وعدہ کیا۔ انہوں نے ٹویٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ ’’دفاعی نظاموں اور جہازوں کی عمر کا تجزیہ ہونا چاہیئے۔‘‘

اس جہاز پر سوار افراد کی تعداد کے بارے میں ابہام رہا ہے۔ حکام نے بدھ کو کہا کہ اس میں 122 افراد سوار تھے جن میں سے بیشتر فوجی اہلکار اور ان کے اہلخانہ تھے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق جہاز میں صرف 12افراد سوار تھے، جبکہ ایک سرکاری فہرست کے مطابق جہاز میں 50 افراد سوار تھے۔

XS
SM
MD
LG