رسائی کے لنکس

انڈونیشیا: گرجا کو نشانہ بنانے والا بمبار مسجد حملہ میں بھی ملوث تھا


انڈونیشیا: گرجا کو نشانہ بنانے والا بمبار مسجد حملہ میں بھی ملوث تھا

انڈونیشیا: گرجا کو نشانہ بنانے والا بمبار مسجد حملہ میں بھی ملوث تھا

انڈونیشیا کی پولیس نے کہا ہے کہ اتوار کو ایک چرچ کو نشانہ بنا کر 22 افراد کو زخمی کرنے والے خود کش حملہ آور کی 'ڈی این اے' کے ذریعے شناخت کرلی گئی ہے۔

حکام نے منگل کو صحافیوں کو بتایا کہ مبینہ بمبار کی شناخت 30 سالہ پینو دمایانتو کے نام سے ہوئی جو اشمت یوسف حیات کا نام بھی استعمال کرتا تھا۔ ملزم رواں برس اپریل میں ایک مسجد پر کیے گئے خود کش حملے کے مقدمہ میں بھی پولیس کو مطلوب تھا جس میں 30 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

پولیس کے ایک ترجمان کے بقول ملزم نے بارودی مواد اپنے پیٹ پر باندھ رکھا تھا جو اسے نے گرجا گھر میں داخل ہوتے وقت پھاڑ لیا۔ ترجمان کے مطابق حملے کے مقاصد مذہبی تھے۔

اس سے قبل انڈونیشیا کے صدر سوسیلو بمبانگ یودھویونو نے اپنے ردِ عمل میں کہا تھا کہ حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسند انڈونیشیا کے لیے بدستور ایک خطرہ ہیں۔

اتوار کا خود کش حملہ سولو نامی شہر میں کیا گیا تھا جو حکومتی تحویل میں موجود شدت پسند مذہبی رہنما ابو بکر بشیر کا آبائی قصبہ ہے۔ بشیر کو علاقائی دہشت گرد تنظیم 'جماعہ اسلامیہ' کا روحانی رہنما تصور کیا جاتا ہے۔

حملہ ایک پروٹسٹنٹ گرجا گھر پر اس وقت کیا گیا تھا جب اتوار کی عبادت میں شرکت کے بعد سینکڑوں عیسائی گرجا سے باہر آرہے تھے۔

پولیس کے 'فارینزک ڈیپارٹمنٹ' کے سربراہ مصدق شق نے مبینہ بمبار کے 'ڈی این اے' ٹیسٹ کے نتائج سے منگل کو صحافیوں کو آگاہ کیا۔ پولیس عہدیدار کا کہنا تھا کہ بنیادی اور دیگر معلومات کی بنیاد پر مبینہ بمبار کی شناخت کی تصدیق کرلی گئی ہے۔

اس سے قبل رواں برس اپریل میں کیے گئے خودکش حملے میں دارالحکومت جکارتہ سے 300 کلومیٹر مشرق میں واقع سربون نامی شہر کے ایک پولیس اسٹیشن سے ملحق مسجد کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ واقعہ میں ملوث دو مبینہ ملزمان مئی میں سولو کے نزدیک ہونے والے ایک پولیس مقابلہ میں مارے گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG