رسائی کے لنکس

انڈونیشیا: مذہبی حملے کا نشانہ بننے والے کو سزائے قید


انڈونیشیا: مذہبی حملے کا نشانہ بننے والے کو سزائے قید

انڈونیشیا: مذہبی حملے کا نشانہ بننے والے کو سزائے قید

انڈونیشیا کی ایک عدالت نے ایک اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والے شخص کو ایک ایسے ہجوم کے خلاف مزاحمت کرنے کی پاداش میں چھ ماہ قید کی سزا سنائی ہے جس نے اس کے تین دوستوں کو ہلاک کردیا تھا۔

واقعے کے دوران حملہ آوروں نے دیدن دوسجانا نامی ملزم کا ہاتھ ایک چاقو سے تقریباً کاٹ ڈالا تھا۔ تاہم پیر کو عدالت نے دوسجانا کو جائے وقوعہ سے چلے جانے کے پولیس حکم کی خلاف ورزی کرنے اور حملہ آوروں میں سے ایک پر جوابی حملہ کرنے کا جرم ثابت ہوجانے پر چھ ماہ قید کی سزا سنادی۔

دوسجانا کو سنائی گئی سزا ان 12 مسلم شدت پسند حملہ آوروں کو سنائی گئی سخت ترین سزا کے برابر ہے جو رواں برس فروری میں ہونے والے اس واقعہ میں شریک تھے۔

مقدمہ کی کارروائی کے دوران دکھائی گئی حملے کی ایک ویڈیو میں 15 سو سے زائد سنی مسلمانوں کے ایک گروہ کو اقلیتی فرقے 'احمدیہ' سے تعلق رکھنے والے 20 افراد پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ ویڈیو کے مطابق حملہ آور متاثرین کو زدوکوب کررہے تھے۔

واضح رہے کہ 'احمدیہ' فرقہ سے تعلق رکھنے والے خود کو مسلمان کہتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق انڈونیشیا میں اس عقیدے کے ماننے والوں کی تعداد دو لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ تاہم انڈونیشیا سمیت کئی دیگر مسلم ممالک میں احمدیوں کو اس بنیاد پر مسلمان تسلیم نہیں کیا جاتا کہ وہ پیغمبرِ اسلام محمد صلی اللہ علی وسلم کی ختمِ نبوت کے قائل نہیں۔

سن 2008ء میں انڈونیشیائی حکومت نے احمدی فرقہ کی جانب سے اپنے عقائد کی تبلیغ پہ باقاعدہ پابندی عائد کردی تھی۔

XS
SM
MD
LG