رسائی کے لنکس

انڈونیشیا: آچے میں عسکریت پسندی پر کنٹرول کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت


انڈونیشیا: آچے میں عسکریت پسندی پر کنٹرول کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت

انڈونیشیا: آچے میں عسکریت پسندی پر کنٹرول کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت

انڈونیشا کے حکام کو عسکریت پسندوں کے ایک نئے اتحاد کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل ہوئی ہیں جو آچے میں خود کو القاعدہ انڈونیشیا کہتا ہے۔

فروری میں سیکیورٹی فورسز کو آچے میں عسکریت پسندوں کے ایک تربیتی کیمپ کا علم ہوا تھااور انہوں نےآٹھ مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک اور 48 کو گرفتار کرلیا ہے۔تاہم سیکیورٹی سے متعلق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشتبہ عسکریت پسندوں پر نظر رکھنے اور انتہا پسندوں کے پرتشدد پیغام کو پھیلنے سے روکنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

سیکیورٹی امور کے تجزیہ کار کین کون بوئے کہتے ہیں کہ گذشتہ جولائی میں جکارتہ کےدوہوٹلوں میں بم دھماکوں سے قبل انڈونیشیا میں ایک بڑے عرصے تک نسبتاً پرسکون رہا، جس کے نتیجے میں دہشت گرد تنظیموں کو ازسرنو منظم ہونے کا موقع ملا۔

وہ کہتے ہیں کہ چار سال تک کوئی اہم واقعہ پیش نہیں آیا۔ اور میرا خیال ہے کہ اس وجہ سے سیکیورٹی فورسز کے کچھ ارکان خاصے مطمئن تھے۔ اس کی وجہ بظاہر تو یہی دکھائی دیتی تھی کہ خطرناک انتہاپسندوں نےاپنی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی اور وہ کسی کارروائی میں حصہ نہیں لے رہے تھے۔ اور پھر گذشتہ سال جولائی میں اچانک ایک بڑا واقعہ پیش آیا تو سیکیورٹی فورسز کو یہ احساس ہوا کہ انتہاپسند نہ صرف اب تک اردگرد موجود اور فعال ہیں بلکہ انہوں نے شہر کے اندر سب کی آنکھوں کے سامنے ایک زیادہ مؤثر کارروائی بھی کرڈالی ہے ۔

انڈونیشیا کی سیکیورٹی فورسز نے ہوٹل بم دھماکوں کے ذمہ دار افراد کا پیچھا کیا، جن میں ان کا سرغنہ نورالدین ٹاپ شامل تھا ، جوستمبر میں پولیس ایک چھاپے میں ہلاک ہوگیا تھا۔

پولیس نے نئے حملوں کوروکنے کی کوششوں کے سلسلے میں فروری میں آچے میں ایک تربیتی کیمپ چلانے والے دہشت گردوں کے ایک نئے اتحاد کا سراغ لگایا ۔ اس کے بعد ہونے والی پکڑ دھکڑ کی کارروائی میں 48 مشتبہ افراد گرفتار جب کہ آٹھ ہلاک ہوئے۔ہلاک ہونے والوں میں انڈونیشیا کا ایک انتہائی مطلوب مشتبہ دہشت گرددولمتین شامل تھا ، جس پر 2002ء میں بالی کے بم دھماکوں میں کوئی کردار کرنے کاشبہ کیا گیاتھا۔ ان بم دھماکوں میں 202 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ سے منسلک ہشت گردی کے امور کی ایک ماہر سڈنی جونز نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں اس نئے دہشت گرد گروپ کے بارے میں، جو خود کوآچے میں القاعدہ انڈونیشیا کہتا ہے، انٹیلی جنس کی بہت سی معلومات فراہم کی ہیں۔

یہ گروپ انتہاپسندی میں کئی لحاظ سے نورالدین ٹاپ سے کم درجے کا ہے۔وہ اس طرح کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اصل نصب العین اسلامی شریعت کا نفاذ ہونا چاہیے نہ کہ صرف چیزوں کو دھماکے سے اڑادینا۔ لیکن گروپ سمجھتا ہے کہ اسلامی شریعت کے نفاذ کے سلسلے میں جو کوئی بھی رکاوٹ بنے ، اس پر حملے جائز ہیں۔

مز جونز کہتی ہیں کہ یہ گروپ اسلامی شریعت کے مخالف انڈونیشیا کے منتخب راہنماؤں کے قتل کا ر حامی ہے ۔اس کے ارکان نے آچے میں اپنے قائم کردہ ٹھکانے سے کارروائیوں کی اس لیے حمایت کی تھی، کیونکہ انڈونیشیا کے اس نیم خوداختیار علاقے میں شریعت نافذ ہوچکی ہے۔

جونز کہتی ہیں کہ آچے کے رہائشیوں نے، جنہوں نے 2005ء میں اپنی علیحدگی پسند ی کی ایک 30 سالہ شورش کا اختتام کیا تھا ، حکام کو اس کیمپ کی خبر دی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک بہت بڑا غلطی تھی۔ انہوں نے یہ کیوں سوچا کہ انہیں آچے جیسی جگہ پر، جہاں تشدد کے واقعات میں ابھی حال ہی میں کمی کا آغاز ہوا ہے ،حمایت حاصل ہو جائے گی ۔ اس بارے میں مجھے اس کے سوا اور کوئی جواز دکھائی نہیں دیتا کہ آچے میں دو ایسے انتہائی تجربہ کار افراد موجود تھے جو اس اتحاد کا حصہ ہیں ۔

وہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد ہونے والی پکڑ دھکڑ میں گروپ کی کارروائیوں کو مؤثر طور پر ختم کر دیا گیا۔

مز جونز نے عسکریت پسندوں کی نئی تحریکوں کو پھلنے پھولنے سے روکنے کے لیے متعدد سفارشات پیش کی ہیں ۔ جن میں سے سب سے اہم سفارش ان قیدیوں اور سابقہ قیدیوں کی نگرانی میں اضافہ ہے جو دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور ریکروٹمنٹ میں ملوث رہے ہوں۔

کون بوئے کہتے ہیں کہ ایسا کرنے کے لیے پولیس کو اضافی وسائل اور تربیت درکار ہو گی ۔

وہ کہتی ہیں کہ گزشتہ برسوں میں فی الواقع سینکڑوں انتہا پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان سب کی نگرانی بہت مشکل کام ہو گا۔ اس لیے میرا اندازہ ہے کہ انہیں کچھ شخصی خاکےسامنے رکھ کر یہ پتا چلانا ہو گا کہ ان میں سے کس کے بارے میں یہ زیادہ امکان ہے کہ وہ تشدد کی کارروائی میں حصہ لے سکتا ہے ، یا کہ ان میں سے کون سے ایسے تھے جنہوں نے قید کےد وران کسی قسم کے پچھتاوے یا افسوس کا اظہار نہیں کیا تھا، اور پھر ان پر نظررکھی جائے۔

جونز کہتی ہیں کہ انڈونیشیا کے حکام کو ان متعدد تنظیموں پر بھی نظر رکھنی چاہیے جو انتہا پسندانہ نظریات پھیلاتی ہیں ۔تاہم وہ کہتی ہیں کہ حکومت کو انہیں سینسر کرنا چاہیے لیکن ان کی نگرانی کرنی چاہیے اور یہ یقین دہانی کرنی چاہیے کہ وہ خود کو حکام سے رجسٹرڈ کر رہی ہیں اور ٹیکس ادا کر رہی ہیں ۔

وہ کہتی ہیں کہ ایک ایسے ملک میں جو ابھی حال ہی میں ایک مطلق العنان ماضی سے بحال ہوا ہے اور جمہوری اداروں کے قیام کے لیے انتہائی اچھی کار کردگی کا مظاہرہ کر رہاہے ، سب سے آخری چیز جوآپ کرنا چاہیں گے وہ سینسر شپ یا اظہار کی آزادی پر پابندی ہو گی ۔ اس لیے ایک پیچیدہ مسئلہ یہ ہو گا کہ آپ ان انتہا پسندوں کی ابلاغی اور اشاعتی سر گرمیوں کے بارے میں کیا کچھ کر سکتے ہیں ۔ اور اس کا ایک حل یہ ہے کہ آپ ان میں سے ہر ایک اشاعتی مرکز پر بہت احتیاط سے نظر رکھیں اور یہ جائزہ لیں کہ آیا وہ اشاعت کے موجودہ قوانین کی من وعن پابندی کر رہے ہیں یا نہیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کر رہے تو پھر انہیں سزا دی جانی چاہے یا انہیں ان قوانین کی خلاف ورزی کی بنا پر گرفتار کیا جانا چاہیے۔

جونز کہتی ہیں کہ انڈونیشیا نے پولیس کی مدد سے دہشت گردی کو کچلنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے لیکن ایک جمہوری معاشرے میں تشدد کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے ایک مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG