رسائی کے لنکس

دہشت گردی کا مقابلہ کامک بکس سے

  • برائن پیڈن

دہشت گردی کا مقابلہ کامک بکس سے

دہشت گردی کا مقابلہ کامک بکس سے

کامک بکس یا کارٹون کہانیاں بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول ہیں۔ عام طورپر ایکشن ہیروز اور کلاسیک کہانیوں کو کامکس کا موضوع بنایا جاتا ہے ، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ انہیں انڈونیشیا کے اسلامی مدرسوں کے طالب علموں میں اعتدال پسندی کی سوچ ابھارنے کے لیے استعمال کیا جارہاہے۔

حال ہی میں انڈونیشیا میں شائع ہونے والی ایک’ کامک بک‘ میں ملائیشیا میں پیدا ہونے والے شخص ناصر عباس کی کہانی بیان کی گئی ہے کہ اس کا دل کیسے انتہاپسند اسلامی تحریک سے بدظن ہوا۔کتاب کے رنگارنگ صفحات بتاتے ہیں کہ عباس نے کیسے افغانستان میں سویت یونین کے خلاف جنگ لڑی اور کیسے جنوب مشرقی ایشیا کے ایک دہشت گرد گروہ جامعہ اسلامیہ کا لیڈر بن گیا۔ عباس کا کہناہے کہ تنظیم کی جانب سے بے گناہ شہریوں کو ہدف بنانے کےفیصلے نے، جس کا آغاز 2002ء میں بالی کے بم دھماکوں سے ہوا، اور جس میں دو سوسے زیادہ افرا د ہلاک ہوئے تھے، اس کا ذہن تبدیل کرنے میں کردار ادا کیا۔

ان کا کہناہے کہ مجھے یہ برا لگتا ہے۔ مجھے شہری علاقوں میں ایسی کارروائیوں سے اختلاف ہے کیونکہ یہ میری سوچ کے خلاف ہے۔ یہ جہاد کے مفہوم کے خلاف ہے۔

تصویری کہانیوں کی یہ کتاب انڈونیشیا میں شائع ہونےو الی ایسی بہت سی کتابوں میں سے ہے، جس میں تحمل اور برداشت عام کرنے کا پیغام دیا گیا ہو۔

جکارتہ کے مضافات میں واقع اشیدیقہ بورڈنگ سکول میں نوعمر طالب علموں کو تصویری کہانیوں کے ایک ایسے سلسلے سے متعارف کرایا جا رہا ہے ۔ جن میں طالبعلموں کی مہمات ، روایتی سوچ اور منفی معلومات سے نمٹنے کے طریقوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔

مجموعی طورپر کتاب کے بارے میں اسکول کے طالب علموں کا پہلا ردعمل مثبت تھا۔

محمد فوزی کا کہناہے کہ انہیں کتاب میں دیا جانے والا اخلاقی پیغام پسند آیا ہے۔ ان کاکہناہے کہ سبق یہ ہے کہ اختلاف رائے کو قبول کیا جائے اور یہ کہ آپ ایک دوسرے سے صرف اس لئے نہیں لڑ سکتے کہ آپ ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔

16 سالہ شیلا کا کہناہے کہ ان تصویری کہانیوں میں ان جیسے نوجوان مسلمانوں کوموضوع بنایا گیاہے، جنہیں ایسے اخلاقی سوالوں کا سامنا ہے،اور یہ انہیں اچھا لگا ۔

کامک کہانیاں عموماً صرف محبت کی داستانوں یا ایکشن ہیروزکےبارے میں ہوتی ہیں جن میں سےبیشتر ہیروزکا تعلق جاپان سے ہوتا ہے۔ لیکن اس کامک میں معلومات اور اخلاقی اقدار کا سبق بھی موجود ہوتا ہے۔

انڈونیشیا میں کچھ عرصے سے مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہورہاہے۔ اکثر اوقات اسلامی شدت پسند وں کی ایک چھوٹی سی اقلیت کوایسے تعصبانہ جذبات بھڑکانے کا ذمہ دارقرار دیاجاتا ہے۔ اور یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ نئی نسل کے دل اور ذہن جیتنے کے لیے اعتدال پسند مسلمان اکثریت کے اقدامات ناکافی ہیں ۔

بین الاقوامی تنازعات کے حل سے متعلق ایک تنظیم ’سرچ فار کامن گراؤنڈ‘ نے اسکول کے طالب علموں میں تحمل اور برداشت پیدا کرنے کے لیے ایسی کومک بکس تیار کی ہیں۔

امریکہ کا محکمہ خارجہ جزوی طورپر اس پراجیکٹ میں مدد فراہم کررہاہے۔ یہ تنظیم انڈونیشیا بھر کے دینی تعلیم دینے والے سکولوں میں 60 ہزار کامک بکس تقسیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

XS
SM
MD
LG