رسائی کے لنکس

'سینا بنگ' نے اس سے قبل اگست 2010ء میں لاوا اگلا تھا جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور 30 ہزار بے گھر ہوگئے تھے۔ اس سے قبل یہ پہاڑ چار صدیوں تک خاموش رہا تھا اور 2010ء میں لاوے کے اخراج نے سائنس دانوں کو حیران کردیا تھا۔

انڈونیشیاء کے سماٹرا جزیرے پر واقع 'سینا بنگ' پہاڑ گذشتہ کئی ماہ سے لاوا اگل رہا ہے اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔

حالیہ چند دنوں میں اس لاوے کی زد میں آکر 15 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

مقامی ریسکیو اہلکار ہفتے کے روز پہاڑ کے اندر ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تاحال تلاش میں ہیں۔ مگر اتوار اور پیر کے روز لاوا اگلنے کے باعث اس کام میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔


ابلتے لاوے کا نشانہ بننے والوں میں طالبعلموں کا ایک گروپ شامل ہے، ان کی ایک ٹیچر اور ایک رپورٹر بھی شامل ہیں۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ تین مقامی افراد اپنی ایک خاندانی قبر پر جا رہے تھے جب وہ بھی لاوے کا شکار بن گئے۔

لاپتہ ہونے والے طالبعلم کرسچن سٹوڈنٹس موومنٹ کی جانب سے متاثرین میں امدادی سامان بانٹ رہے تھے۔

ہفتے کی صبح لاوا نکلنے کے بعدسے پہاڑ سے دھماکوں کی آوازیں آ رہی تھیں اور مسلسل راکھ نکل رہی ہے جس نے ارد گرد ساڑھے چار کلومیٹر تک موجود دیہات، درختوں اور کھیتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

پہاڑ سے راکھ اور لاوا نکلنے کےبعد علاقے سے نقل مکانی کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو گیا اور مہاجرین کی تعداد 30 ہزار تک جا پہنچی۔

انڈونیشی حکام کے مطابق 'سینا بنگ' انڈونیشیا میں موجود ان 130 آتش فشاں پہاڑوں میں سے ایک ہے جنہیں سائنس دان 'متحرک' قرار دیتے ہیں اور جن سے لاوا، آتش فشانی راکھ وار دھویں کے بادل نکلنے کا سلسلہ کسی بھی وقت شروع ہوسکتا ہے۔

'سینا بنگ' نے اس سے قبل اگست 2010ء میں لاوا اگلا تھا جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور 30 ہزار بے گھر ہوگئے تھے۔ اس سے قبل یہ پہاڑ چار صدیوں تک خاموش رہا تھا اور 2010ء میں لاوے کے اخراج نے سائنس دانوں کو حیران کردیا تھا۔
XS
SM
MD
LG