رسائی کے لنکس

انڈونیشی عدالت کا متنازع قانون کو برقرار رکھنے کا فیصلہ


انڈونیشی عدالت کا متنازع قانون کو برقرار رکھنے کا فیصلہ

انڈونیشی عدالت کا متنازع قانون کو برقرار رکھنے کا فیصلہ

انڈونیشیا کی آئینی عدالت نے توہینِ مذہب کے اُس متنازع قانون کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہےجِس کے بارے ناقدین کا کہنا ہے اُس نے سب سے بڑی مسلم آبادی والے ملک میں مذہبی آزادی کو محدود کردیا ہے۔

انڈونیشی عدالت نے پیر کے روز اُس درخواست کو رد کردیا جِس میں اِس قانون کو چیلنج کیا گیا تھا اور اُس نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ مذہبی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے یہ قانون بہت اہم ہے۔

یہ قانون کسی ایسے مذہب پر عمل کرنے کو خلافِ قانون قرار دیتا ہے، جسے حکومت تسلیم نہ کرتی ہو۔اور اس پر پانچ سال تک قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔

انڈونیشیا کی حکومت سرکاری طور پر چھ مذاہب کو تسلیم کرتی ہے۔ ان میں اسلام کی تمام تسلیم شدہ شکلیں، کیتھولک عیسائیت، پروٹسٹنٹ عسائیت ، بودھ مت ، ہندو مت اور کنفیوشس کے عقائد شامل ہیں۔

انسانی حقوق کے حامیوں کا کہنا ہے توہینِ مذہب کا قانون اُن مسلمانوں سمیت جن کے عقائد مسلمانوں کی اکثریت سے مختلف ہیں، مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کی اجازت دیتا ہے۔

انڈونیشیا کی حکومت ماضی میں احمدیہ فرقے سمیت، دوسرے مذہبی گروپوں کو خلاف قانون قرار دینے کے لیے اس قانون کو استعمال کرتی رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG