رسائی کے لنکس

امور خارجہ کے معاون مشیر طارق فاطمی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یہ چاہتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل ہو۔

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے میں کوئی تبدیلی یا ترمیم قبول نہیں کرے گا۔ اس سے قبل بھارت نے اس 56 سالہ پرانے معاہدے پر اختلاف کو دور کرنے کے لیے دوطرفہ بات چیت پر زور دیا تھا۔

پاکستانی وزیر اعظم نوازشریف کے امور خارجہ کے معاون مشیر طارق فاطمی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا موقف اصولوں پر مبنی ہے اور پاکستان یہ چاہتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل ہو۔

اس سے قبل عالمی بینک کے صدر نے سندھ طاس معاہدےپر پانی کی تقسیم کے تنازع کے حل کے لیے غیر جانبدار ماہر یا عالمی ثالثی عدالت کی تقرری روکتے ہوئے پاکستان اور بھارت سے کہا تھا کہ وہ جنوری تک اپنے تنازعات کرلیں۔

دوسری جانب بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ نے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد پر یقین رکھتا ہے اور وہ چاہتا کہ وہ اس سلسلے میں درپیش تکنکی نوعیت کے اختلافات کو دوطرفہ بات چیت کے ذرلعے حل کیا جائے۔

سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے سندھ اور جہلم پاکستان کو جب کہ روای، چناب اور ستلج بھارت کو دیے گئے ہیں۔ البتہ بھارت کشمیر سے نکلنے والے دریاؤں سندھ اور جہلم کے پانی کو مقررہ حدود میں پن بجلی کے منصوبوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان ان دریاؤں پر بھارت کی جانب سے ڈیموں کی تعمیر پر اختلافات کھڑے ہوئے ہیں جنہیں پاکستان معاہدے کے خلاف قرار دیتا ہے جب کہ بھارت اس سے اتفاق نہیں کرتا۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG