رسائی کے لنکس

پاک بھارت سندھ طاس کمشنر کا اجلاس، بہتری کی امید کا اظہار


ایک پاکستانی کسان دریائے سندھ کا بہاؤ دیکھ رہا ہے۔

سینیئر تجزیہ کار طلعت مسعود وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہتے ہیں یہ مذاکرات ایک موقع فراہم کر رہے ہیں جن کے ذریعے دیگر معاملات پر بھی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے مابین آبی تنازع پر بات چیت کا دو روزہ اجلاس پیر کو اسلام آباد میں شروع ہو لیکن بدستور کشیدہ تعلقات کے تناظر میں بھارتی وفد کی بات چیت میں شرکت کے لیے پاکستان آمد کو مبصر حلقے دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں میں تناؤ کی کمی کے لیے ایک امید افزا اشارہ تصور کر رہے ہیں۔

اجلاس میں خاص طور پر کشمیر میں دریائے جہلم اور نیلم پر بجلی کی پیداوار کے لیے بھارت کی طرف سے بنائے جانے والے تین منصوبوں پر بات چیت ہوگی جن کے بارے میں پاکستان کو شکایت ہے کہ یہ اس کے لیے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ کا سبب بنیں گے۔

وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف نے اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے آبی تنازعات کے حل کے لیے ایک مکمل حکمت عملی پیش کرتا ہے اور انھیں امید ہے کہ اس کی پاسداری کی جائے گی۔

"اس معاہدے کی پاسداری اور اس کے ذریعے مسائل کا حل دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔۔۔ہمیں مذاکرات سے بہتری کی امید ہے۔"

وفاقی وزیر خواجہ آصف اجلاس کے بارے میں صحافیوں کو بتا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر خواجہ آصف اجلاس کے بارے میں صحافیوں کو بتا رہے ہیں۔

بھارتی وفد کی قیادت سندھ طاس کمشنر پی کے سکسینا کر رہے ہیں جب کہ پاکستان کی طرف سے ان کے ہم منصب مرزا آصف بیگ اپنے وفد کے ہمراہ اجلاس میں شریک ہیں۔

1960ء میں عالمی بینک کی نگرانی میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت تین مشرقی دریاؤں راوی، ستلج اور بیاس کے پانیوں پر پہلا حق بھارت جب کہ تین مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کے 80 فیصد پانی پر پاکستان کا حق ہے۔

معاہدے میں یہ بھی درج ہے کہ دونوں ممالک آبی ذخائر کی تقسیم کے معاملے پر سال میں کم از کم ایک بار ضرور ملاقات کر کے اختلافات اور تحفظات پر بات چیت کریں۔

لیکن دوطرفہ کشیدہ تعلقات کے تناظر میں بھارت نے گزشتہ سال یہ مذاکرات ملتوی کر دیے تھے اور دونوں ملکوں نے اس ضمن عالمی بینک سے ثالثی کے اقدام کرنے کی درخواست بھی کر رکھی تھی۔ ورلڈ بینک نے اسے باہمی طور پر حل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ حالیہ ہفتوں میں یہ دوسرا بھارتی وفد ہے جو پاکستان آیا ہے۔ اس سے قبل رواں ماہ ہی جنوبی ایشیا سے متعلق ایک اجلاس میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی اور حزب مخالف کی جماعت کانگرس کے قانون سازوں پر مشتمل ایک وفد نے شرکت کی تھی۔

تاہم سندھ طاس معاہدے پر پاکستان آنے والا دس رکنی وفد پہلا باضابطہ سرکاری بھارتی وفد ہے۔

بھارت کی طرف سے پاکستان سے متعلق سخت رویے کو مبصرین مقامی سیاسی معاملات سے جوڑتے آ رہے تھے اور ایک ایسے وقت جب اہم ریاستی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے، تو دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کی فضا کم ہونے کے امکانات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

سینیئر تجزیہ کار طلعت مسعود وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہتے ہیں یہ مذاکرات ایک موقع فراہم کر رہے ہیں جن کے ذریعے دیگر معاملات پر بھی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔

"لیکن دیکھنا یہ ہے کہ بھارت کا رویہ کیا رہتا ہے میرا خیال ہے پاکستان تو بات چیت کا کہتا ہی آیا ہے۔۔۔پرامید رہنا چاہیے۔ یہ ہیں تو بہت چھوٹی چھوٹی چیزیں لیکن اس سے لگتا ہے کہ معاملات آگے بڑھ سکتے ہیں۔"

دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان تعلقات شروع ہی سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں لیکن حالیہ کشیدگی میں اس وقت اضافہ دیکھا گیا جب گزشتہ سال ستمبر میں بھارتی کشمیر میں ایک فوجی اڈے پر عسکریت پسندوں کے مبینہ حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا گیا اور بھارت کی طرف سے پاکستان کے لیے پانی بند کرنے سمیت سنگین نتائج کی دھمکیاں سامنے آتی رہیں۔

پاکستان بھارتی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ باہمی احترام کی بنیاد پر دوطرفہ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے۔

XS
SM
MD
LG