رسائی کے لنکس

تھر میں خشک سالی کے باعث بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری


فائل فوٹو

فائل فوٹو

غذائی قلت کی شکار حاملہ خواتین کی ناقص صحت کا اثر ان کے پیدا ہونے والے بچوں پر بھی پڑتا ہے اور وہ پیدائش کے بعد زندگی اور موت کی کشمکش کا شکار ہو جاتے ہیں جن میں سے اکثر جانبر نہیں ہو پاتے۔

پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں گزشتہ سالوں کی طرح اس برس بھی غذائی قلت اور اس کے باعث ہونے والی طبی پیچیدگیوں کی وجہ سے بچوں کی اموات معمول بن چکی ہیں اور پہلے ڈھائی ماہ میں یہ تعداد دو سو سے تجاوز کر چکی ہے۔

مٹھی شہر کے ایک اسپتال میں کم وزن بیمار بچوں کی نگہداشت کے لیے 13 انکیوبیٹرز موجود ہیں۔ ان ہی میں سے ایک پر صرف "لڑکی، دختر محمود" درج ہے اور اس میں رکھی گئی بچی سانس کی ڈور تھامے رکھنے کے لیے کوشاں دکھائی دیتی ہے۔

ایسا ہی منظر اس شعبے کے دیگر حصوں میں دکھائی دیتا ہے۔

بیس ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلے دو افتادہ صحرائی علاقوں کے بسنے والوں کی گزر اوقات مال مویشی پر ہے جب کہ کچھ علاقوں میں محدود رقبے پر زرعی اجناس بھی کاشت کی جاتی ہیں۔

تھر میں خشک سالی کا ایک منظر

تھر میں خشک سالی کا ایک منظر

اس علاقے میں بارشیں کم ہی ہوتی ہیں اور پانی کی قلت کے باعث نہ صرف فصلیں متاثر ہوتی ہیں بلکہ چارے کی عدم دستیابی مویشیوں کی اموات کا سبب بھی بنتی ہے۔

اسی اثنا میں غذائی قلت کی شکار حاملہ خواتین کی ناقص صحت کا اثر ان کے پیدا ہونے والے بچوں پر بھی پڑتا ہے اور وہ پیدائش کے بعد زندگی اور موت کی کشمکش کا شکار ہو جاتے ہیں جن میں سے اکثر جانبر نہیں ہو پاتے۔

علاقے میں کام کرنے والی مختلف غیر سرکاری تنظیموں سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ابتر صورتحال کی ذمہ داری صرف خشک سالی پر ہی عائد نہیں ہوتی بلکہ اس میں دیگر کئی عوامل بھی کار فرما ہیں جن میں وقت کے ساتھ ساتھ آنے والی سماجی و معاشی تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔

تاہم مقامی معالجین کے بقول بچوں کی اموات کی ایک بڑی وجہ لڑکیوں کی کم عمری میں شادی ہے جب کہ اکثر حاملہ خواتین دوران حمل طبی مشورے کے لیے بھی کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتیں جو دوران زچگی پیچیدگیوں کے علاوہ پیدا ہونے والے بچے کی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

مٹھی سے صرف 20 کلو میٹر ہی کے فاصلے پر قائم ہریار میں صحت کا ایک مرکز ویران پڑا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے مٹھی تک پہنچنے میں انھیں لگ بھگ تین ہزار گاڑی کے کرائے پر خرچ کرنے پڑتے ہیں اور اتنی رقم کا بندوبست کرنا، یہاں کے غریب لوگوں کے لیے ممکن نہیں ہوتا اس لیے وہ اپنے گھروں ہی میں مقامی طور پر رائج طریقہ علاج پر انحصار کرتے ہیں اور صرف غیر معمولی حالات ہی میں اسپتال کا رخ کرتے ہیں۔

تھر کے دیہاتوں میں رہنے والی بیشتر خواتین دوران حمل کبھی بھی ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتیں اور اس کی وجہ عموماً یہ بتائی جاتی ہے کہ ڈاکٹر اُن کے گھروں سے بہت دور ہیں۔

حالیہ بحران کے بعد سندھ حکومت نے مزید ڈاکٹروں، خاص طور پر زچہ و بچہ کے ماہرین کی خدمات حاصل کی ہیں جب کہ حکومت کی طرف سے ’انکیوبیٹر‘، ادویات اور غذائیت والی ادویات فراہم کی گئی ہیں تاکہ مقامی اسپتال مریضوں کو مفت یہ فراہم کر سکیں۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ مقامی آبادی میں مفت گندم بھی تقسیم کی گئی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے فراہم کی جانے والی امداد نا صرف تاخیر سے یہاں پہنچی بلکہ یہ بہت محدود بھی ہے۔ اُن کا ماننا ہے کہ حقیقی مسئلہ دور دراز علاقوں میں ہے جہاں اُن کے بقول حکومت کچھ نہیں کر رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG