رسائی کے لنکس

بزرگ شہریوں اور جہاں دیدہ افراد کا کہنا ہے کہ پیروں، سیدوں اور گدی نشینوں کے اثر کو سیاسی پس منظر سے الگ نہیں کیا جاسکتا

کراچی ۔۔۔۔ پاکستان کا صوبہ سندھ ’گدی نشینوں‘ اور ’پیروں‘ کا اثر و رسوخ رکھنے والا صوبہ ہے۔ یہاں کے بزرگ شہریوں اور جہاں دیدہ افراد کا کہنا ہے کہ پیروں، سیدوں اور گدی نشینوں کے اثر کو سیاسی پس منظر سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تینوں عناصر براہ راست انتخابی سیاست میں حصہ لے کر یا در پردہ رہ کر کسی نہ کسی سیاسی پارٹی کی حمایت کرکے فیصلہ کُن کردار ادا کرتے چلے آئے ہیں۔

ان میں ہالہ کے قدیم مخدوم خاندان کی ’سروری‘ جماعت، پیر پگارا کی ’حر‘ جماعت اور شاہ محمود قریشی کی ’غوثیہ‘ جماعت سرفہرست ہے، جبکہ خیر پور میرس میں ’پیر آف رانی پور‘ اور گھوٹکی ڈسٹرکٹ میں ’بھرچندی شریف‘ بھی بہت نمایاں ہیں۔

پاکستان کے انگریزی روزنامے ’ایکسپریس ٹریبون‘ نے انہی پیروں، گدی نشینوں اور سیدوں کے سیاسی اثرورسوخ کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس میں سنہ 1970سے سندھ کی سیاست اور انتخابات پر گہری نظر رکھنے والے سینئر جرنلسٹ نیاز بھمبرو کے خیالات بھی بیان کئے گئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں، ’ہر دفعہ انتخابات میں پیر پگارا اور پیر آف رانی پور کے خاندان ایک دوسرے کے مخالف میدان میں اترتے ہیں۔ پیر پگارا کے امیدوار پاکستان مسلم لیگ فنکشنل جبکہ پیر آف رانی پور کے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر انتخابات لڑتے ہیں۔ اب تک پیپلز پارٹی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستیں بھاری اکثریت سے جیتی چلی آئی ہے جبکہ سانگھڑ ڈسٹرکٹ میں پیرپگارا کی حر جماعت ناقابل شکست رہی ہے۔‘

سروری جماعت کا شمار بھی بااثر جماعتوں میں ہوتا ہے۔ سروری جماعت کی مرکزی درگاہ مٹیاری ڈسٹرکٹ میں واقع ہے۔ مٹیاری سے سابق رکن قومی اسمبلی اور وزیر مخدوم امین فہیم اور ان کے بیٹے مخدوم جمیل الزماں پی پی پی کے ٹکٹ پر قومی اور صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پرکامیاب ہوچکے ہیں۔

بھرچندی شریف کے پیر بھی ہمیشہ سے پی پی پی کے حامی رہے ہیں۔ میاں عبدلالحق المعروف میاں مٹھو 1988اور 2008میں دو مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوچکے ہیں تاہم اس دفعہ پیپلز پارٹی نے انہیں قومی اسمبلی کا ٹکٹ نہیں دیا۔

’اکثر اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ پیر کی طاقت اور اثرورسوخ ان کے اپنے حلقے سے باہر بھی نظر آتاہے۔‘ دادو دسٹرکٹ میں واقع درگاہ کے سجادہ نشین پیر سید غلام شاہ گیلانی کاکہنا ہے ’ہم صرف اپنے حلقے سے ہی ووٹ حاصل نہیں کرتے بلکہ دوسرے حلقوں اور ڈسٹرکٹ میں رہنے والے اپنے مریدوں اور ماننے والوں کو بھی ہدایت کرتے ہیں کہ وہ پی پی پی کو ووٹ دیں۔‘

سندھی کالم نگار ارباب نیک محمد کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو کو پیر اور سید خاندانوں کی طرف سے سخت مقابلے کا سامنا رہا۔ تاہم، ان کے دور میں بہت سے لوگوں کے ووٹ دینے کے رجحان میں تبدیلی بھی آئی۔ اس زمانے میں جو نعرہ سب سے زیادہ مقبول ہو ا وہ تھا۔’نہ پیر کا نہ میر کا۔۔ ووٹ ہے ضمیر کا‘۔

بھٹو کے انتقال کے بعد ایک بار پھر ان خاندانوں کے اثر و نفوذ میں اضافہ ہوا۔ارباب نیک محمد نے انتخابی سیاست پر مزید بات کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ پیر مذہبی اور روحانی پیشوا بھی ہیں اور اسی وجہ سے ان کا اپنا مریدوں کا حلقہ ہے۔ کچھ بڑے زمیندار ہیں جو اپنی دولت اور طاقت سے لوگوں کو اپنے زیر اثر رکھتے ہیں۔کچھ ایسے بھی ہیں جو شاہ عبدالطیف بھٹائی،سچل سرمست اور قلندر لال شہباز کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سیاست میں حصہ نہیں لیتے۔‘

شاہ عبدالطیف کی درگاہ کے سجادہ نشین سید نثار حسین شاہ کا کہنا ہے کہ ہمارا کام صوفیوں کی تعلیم اور پیغام کو پھیلانا ہے۔ ان کا درس محبت ، اخوت، امن اور بھائی چارے کا ہے۔ گو کہ لوگوں کی بہت بڑی تعداد شا ہ بھٹائی کو ماننے والوں کی ہے لیکن ہم نے انہیں کبھی کسی کو ووٹ دینے کو نہیں کہا۔ ہم سیاسی کھیل پر یقین نہیں رکھتے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مخدوم شاہ محمود قریشی کی غوثیہ جماعت کے پیروکاروں کی بڑی تعدادبالائی اور زیریں سندھ میں رہتی ہے۔اس جماعت نے پہلی مرتبہ سندھ میں ’خلیفاوٴں ‘ کو منظم کرنا شروع کیا ۔

پاکستان مسلم لیگ ق سے وابستگی رکھنے والے تھرپارکر کے سابق یوسی ناظم ذوالفقار سمیجو بہاالدین زکریا کے مرید ہیں جن کے موجودہ مرشد شاہ محمود قریشی ہیں۔سمیجو کاکہنا ہے کہ ہم پی ایم ایل کیو کے ورکر ہیں لیکن ہمارے لئے ہمارے مرشد سب سے زیادہ اہم ہیں۔
XS
SM
MD
LG