رسائی کے لنکس

پاکستانی معاشرے میں مذہب کا اثر بڑھ رہا ہے، سروے


پاکستانی معاشرے میں مذہب کا اثر بڑھ رہا ہے، سروے

پاکستانی معاشرے میں مذہب کا اثر بڑھ رہا ہے، سروے

ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستانی عوام کی اکثریت کا خیال ہے کہ پاکستانی معاشرے میں مذہب کے اثرورسوخ میں اضافہ ہورہا ہے۔

سرویز کے معروف بین الاقوامی ادارے گیلپ کی پاکستان شاخ کی جانب سے کیے گئے اس حالیہ سروے میں پاکستانی معاشرے میں مذہب کے اثر میں اضافہ یا کمی کے حوالے سے ملک بھر کی نمائندگی کرنے والے شماریاتی بنیادوں پر منتخب مردوخواتین سے ان کی رائے مانگی گئی تھی۔

'گیلپ پاکستان' کے مطابق سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ گو کہ مذکورہ معاملے پر پاکستانی عوام کی رائے تقسیم ہے تاہم ان کی اکثریت کا خیال ہے کہ معاشرے میں مذہب کے اثرورسوخ میں اضافہ ہورہا ہے۔

سروے کے نتائج کے مطابق 43 فی صد پاکستانی شہری سمجھتے ہیں کہ معاشرے میں مذہب کے کردار میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ 35 فی صد کا خیال ہے کہ پاکستانی معاشرے میں مذہبی اثرات میں کمی آرہی ہے۔

سروے کے مطابق پاکستانیوں کی ایک خاصی بڑی تعداد – 21 فی صد – سمجھتی ہے کہ معاشرے میں مذہب کے اثر و رسوخ میں کوئی نمایاں تبدیلی رونما نہیں ہورہی۔ سروے میں شامل 1 فی صد افراد نے اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا۔

'گیلپ پاکستان' کے مطابق حالیہ سروے کے نتائج اس لحاظ سے دلچسپ ہیں کہ 2009ء میں کیے گئے ایسے ہی ایک سروے میں 34 فی صد پاکستانیوں نے اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ معاشرے میں مذہب کے اثرو رسوخ میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ 35 فی صد کی رائے تھی کہ مذہب کے اثرات میں کمی آرہی ہے۔

2009ء کے سروے میں 29 فی صد پاکستانیوں نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں پاکستانی معاشرے میں مذہب کے اثر و رسوخ پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔

'گیلپ پاکستان' کے مطابق دو برسوں کے دوران ان افراد میں 8 فی صد کا اضافہ ہوا ہے جن کی رائے میں پاکستانی معاشرے میں مذہب کے اثرات میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ اس کے خلاف رائے رکھنے والوں کی تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ادارے کے مطابق سروے نتائج کے تفصیلی تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ان افراد کی رائے میں فرق آیا ہے جن کا پہلے خیال تھا کہ مذہب کے اثر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے کیونکہ مذہب کے اثر میں کوئی تبدیلی نہ پانے والوں کی شرح 29 فی صد سے کم ہوکر 21 فی صد ہوگئی ہے۔

ادارے کے مطابق سروے میں غلطی کے امکان کا تخمینہ شماریاتی طور پر مثبت/منفی 3-2 فی صد لگایا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG