رسائی کے لنکس

پروٹوکول نہیں صرف سیکیورٹی دیں گے، عارف نظامی


عارف نظامی نے کہا کہ بعض سیاسی راہنماوں کے لیے پروٹوکول کی شکایات کا ازالہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام صرف سکیورٹی دینا ہے، پروٹوکول نہیں اور اگر کسی کو پروٹوکول کا شوق ہے تو وہ اپنی جیب سے خرچہ کرے۔

نگران وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عارف نظامی نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی اور اس سے پہلے متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار کا قتل لمحہ فکریہ ہے اور ضرورت ہے کہ تمام جماعتوں کو برابر سکیورٹی فراہم کی جائے اور انتخابی مہم میں تمام سیاسی جماعتوں کے لیے ایک جیسا ماحول ہو۔

تاہم انہوں نے کہا کہ امیدواروں کی سکیورٹی بنیادی طور پر صوبوں کی ذمہ داری ہے مگر امن و امان کے قیام میں وفاقی اداروں کا بھی کردار ہے تو وفاقی حکومت بھی اس ذمہ داری سے مبرا نہیں ہے۔ نگران وفاقی وزیراطلاعات نے ان خیالات کا اظہار وائس آف امریکہ کے پروگرام ان دا نیوز میں کیا۔

عارف نظامی نے کہا کہ بعض سیاسی راہنماوں کے لیے پروٹوکول کی شکایات کا ازالہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام صرف سکیورٹی دینا ہے، پروٹوکول نہیں اور اگر کسی کو پروٹوکول کا شوق ہے تو وہ اپنی جیب سے خرچہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کے دو مرتبہ وزارت عظمی کے عہدے پر فائز رہنے اور ان کے لیے موجودہ خطرات کے وزن پر ان کے لیے سکیورٹی کا اہتمام کیا گیا ہے۔

اس سوال پر کہ نگران وفاقی وزیرداخلہ ملک حبیب کے جانبدارانہ بیان کے بعد کئ سیاسی جماعتوں نے احتجاج کیا اور ان کے استعفے کا مطالبہ کیا تو اس پر نگران وریزاعظم نے کیا فیصلہ کیا ہے، عارف نظامی نے بتایا کہ وزیراعظم میرہزار خان کھوسو نے وزیرداخلہ کی سرزنش کی ہے جس پر انہوں نے آئندہ محتاط رہنے کا وعدہ کیا ہے۔

وزیراطلاعات کے بقول اب ملک حبیب میڈیا میں بھی زیادہ نظر نہیں آئیں گے اور اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی پسند ناپسند ہر ایک کی ہو سکتی ہے مگرایک نگران کےعہدے پر ہوتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں اس کے اطلاق اور اظہار سے گریز بہت ضروری ہے۔

اس بارے میں مزید جاننے کے لیے نیچے دیئے گئے آڈیو لنک پر کلک کیجیئے۔
XS
SM
MD
LG