رسائی کے لنکس

'بہت بڑا واقعہ تھا مگر میں اس سانحے کو بھلادینا چاہتا ہوں،" جب یہ واقعہ پیش آیا ایسا معلوم ہورہاتھا کہ میں شاید کوئی برا خواب دیکھ رہاہوں مگر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ حقیقت تھی۔سانحہ پشاور آرمی اسکول کے زخمی طالبعلم کامران کی گفتگو

سولہ دسمبر 2014ء کا سانحہ پشاور آرمی اسکول ملکی تاریخ کا ایک انتہائی سیاہ دن ہے جسے بھلائے نہیں بھلایا جا سکتا۔ ایک ایسا واقعہ جس میں دہشتگردوں کے ہاتھوں درجنوں اسکول کے بچوں کی اساتذہ سمیت بڑی تعداد میں ہلاکتیں سامنے آئیں، جس نے نا صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو ہلاکر رکھ دیا۔

دہشتگردوں کے اس حملے میں جہاں اتنی بڑی ہلاکتیں سامنے آئیں، وہیں اس سانحے سے متاثر ہونے والے درجنوں بچے اب بھی زخمی ہیں۔

سانحہ پشاور آرمی اسکول کے زخمیوں میں شامل پشاور کے4 اساتذہ سمیت 21 طالبعلموں کو علاج معالجے اور بہترین طبی سہولیات کیلئے کراچی کے نجی اسپتال منتقل کیاگیا ہے۔

جہاں اس ہولناک دہشتگرد حملے نے ذہنوں پر ایک سیاہ تاریخ رقم کردی ہے وہیں کراچی کے نجی اسپتال کے بیڈ پر لیٹے سانحہ پشاور میں زندہ بچ جانےوالے زخمی بچوں میں آٹھویں جماعت کے کامران بھی شامل ہیں جو اس سانحے کو ذہن سے بھلا دینا چاہتے ہیں، جس نے نا صرف ان طالبعلموں کے جسموں کو زخمی کیا، بلکہ روح اور ذہن کو بھی سخت متاثر کیا ہے۔

وائس آف امریکہ کی طرف سے رابطہ کرنے پر، کامران نے بتایا کہ 'بہت بڑا واقعہ تھا۔ مگر میں اس سانحے کو بھلا دینا چاہتا ہوں‘۔

انھوں نے مزید بتایا کہ، ’جب یہ واقعہ پیش آیا ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ میں شاید کوئی برا خواب دیکھ رہا ہوں، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ حقیقت تھی‘۔

انہی میں ایک اور زخمی طالبعلم، انس ادریس کے حوصلے بھی بلند ہیں مگر آنکھوں میں اب بھی کئی سوال موجود ہیں کہ یہ سانحہ کیوں ہوا؟

انس نے 16 دسمبر 2014 کے دل دہلا دینے والے سانحے کو دہراتے ہوئے بتایا کہ، ’جب یہ سب ہو رہا تھا میں بھی اپنے اسکول کے دوستوں کےساتھ آڈیٹوریم میں موجود تھا۔ بس فائرنگ کی آوازیں ہر طرف تھیں اور کچھ دکھائی نہیں دیا۔‘

حملے میں، انس کے ایک ہاتھ پر دو گولیاں لگیں تھیں، جسکے زخم ابھی بہت گہرے ہیں۔

انس اس کےساتھ سانحے میں ہلاک ہونےوالے ساتھی طلبا اور مضمون ٹیچر کی ہلاکت پر بھی افسردہ دکھائی دئے۔

کراچی علاج کیلئے لائے گئے 4 اساتذہ میں شامل خاتون ٹیچر، افشاں بھی کراچی منتقل ہوئیں ہیں، جن کے ٹانگوں اور بازو میں گولیاں لگیں تھیں، جسکا کراچی میں علاج جاری ہے۔

اُنھوں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ سانحہ پشاور کا واقعہ اتنا بڑا اور اسکے زخم اتنے گہرے ہیں کہ اسکو بھلانا مشکل ہے۔

ایک استاد ہونے کے حوالے سے انھیں سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ سانحے کے پیش آنے کے بعد کئی بچوں نے اسکول آنا چھوڑ دیا ہے۔ ہم اساتذہ تو یہی چاہتے ہیں کہ بچے جتنی جلدی ہوسکے اس واقعے کو بھلا کر واپس اپنی تعلیم پر پہلے جیسی توجہ دینے لگیں۔

پشاور آرمی اسکول کی 'شہدا اور غازی کمیٹی‘ کے ترجمان، محمد قیصر نے بتایا کہ، ’پشاور کے سانحے میں زخمی ہونےوالے بچے کئی ہفتے گزر جانے کے بعد بھی دماغی طور پر سخت ڈسٹرب ہیں۔‘

محمد قیصر کا کہنا تھا کہ پشاور میں ماہر ڈاکٹروں کی کمی کےباعث بچوں کو کراچی کے نجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کراچی میں اس ہفتے کئی بچوں کے آپریشن کئےجاچکے ہیں اور کئی بچوں کے ہونا باقی ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ طالبعلمون کے زخموں کے علاج سمیت بچوں کو دماغی طور پر پہلے کی طرح نارمل کرنے کیلئے ریہیبلی ٹیشن سینٹرز میں ٹریٹمنٹ بھی دیجارہی ہے، جبکہ کراچی لائےگئے اساتذہ سمیت تمام بچوں کے علاج کے اخراجات سندھ حکومت نے اٹھانے کی ذمہ داری لی ہے۔

محمد قیصر نے مزید بتایا کہ، ’کراچی کے نجی اسپتال منتقل ہونےوالے طالبعلموں میں سے دو، مبشر اور عامر کو ڈاکٹروں نے بیرون ملک علاج کی تجویز دی ہے۔ان دونوں کے ہاتھوں پر گولیاں لگنے سے ہڈیاں اور جوڑ متاثر ہیں جن کا علاج بیرون ملک علاج ممکن ہوگا۔ مگر ان کو بیرون ملک علاج کیلئے بھیجنے کیلئے مالی وسائل کی کمی ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس کے اس سانحے کے متاثرہ طالبعلموں کے زخم تو مندمل ہوجائیں گے، مگر شاید روح کے زخم بھرنے میں برسوں لگ جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG