رسائی کے لنکس

مبصرین کا خیال ہے کہ جنوب مشرقی کرد علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور ہنگامی اختیارات کے استعمال میں اضافے سے نومبر میں ہونے والے انتخابات کے غیر جانبدارانہ ہونے کے بارے میں خدشات بڑھیں گے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے نومبر میں دوبارہ انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ جون میں ہونے والے انتخابات میں کسی ایک جماعت کو واضح برتری حاصل نہیں ملی اور مخلوط حکومت بھی تشکیل نہیں دی جا سکی، جس کے بعد دوبارہ انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔

مگر کرد باغیوں سے جنگ اور داعش کی جانب سے دھمکیوں نے الیکشن کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔

2013 میں ہونے والی جنگ بندی کے گزشتہ ماہ خاتمے کے بعد ترکی کی سکیورٹی فورسز اور کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔

گزشتہ ہفتے داعش کی طرف سے جاری ہونے والی ایک وڈیو سے بھی سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ وڈیو میں داعش کے ترک پیروکاروں سے کہا گیا تھا کہ وہ استنبول کو فتح کر لیں۔

مگر ترکی کو شورش کے دوران اتنخابات منعقد کرانے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔

برسلز میں تحقیق ادارے ’کارنیگی یورپ‘ میں وزٹنگ سکالر سینان الجین نے کہا کہ ’’اسی اور نوے کی دہائی میں پی کے کے کی کارروائیوں کے دوران بھی ترکی میں انتخابات ہوئے ہیں۔ مگر فرق یہ ہے اس وقت پی کے کے دیہی علاقوں میں متحرک تھی، مگر اب ہم نے اسے زیادہ تر شہری علاقوں میں دیکھا ہے۔‘‘

ترکی کے کرد اکثریت والے شورش زدہ جنوب مشرقی علاقوں میں پہلے ہی کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عارضی سکیورٹی زون قائم کیے گئے ہیں جہاں چھ ماہ کے لیے باہر کے افراد کا داخلہ منع ہے۔

پولیس نے کرد نواز پارٹی ’ایچ ڈی پی‘ کے ارکان کو بھی گرفتار کیا ہے جو جون کے انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ پارلیمان کا حصہ بنی۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ان گرفتاریوں نے آنے والے انتخابات کے بارے میں مزید خدشات کو جنم دیا ہے۔

گزشتہ ہفتے سکیورٹی فورسز نے ایچ ڈی پی سے تعلق رکھنے والے تین میئرز کو علیحدگی پسندی کے الزام میں گرفتار کیا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ جنوب مشرقی کرد علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور ہنگامی اختیارات کے استعمال میں اضافے سے نومبر میں ہونے والے انتخابات کے غیر جانبدارانہ ہونے کے بارے میں خدشات بڑھیں گے۔

XS
SM
MD
LG