رسائی کے لنکس

ان سائیڈ جاب: تلخ حقائق آشکار کرتی ایک فلم


ان سائیڈ جاب: تلخ حقائق آشکار کرتی ایک فلم

ان سائیڈ جاب: تلخ حقائق آشکار کرتی ایک فلم

امریکی انتظامیہ کی جانب سے عالمی کساد بازاری کی زد میں آئی ملکی معیشت کو بحران سے نکالنے کیلیے منظور کیے گئے 700 ارب ڈالرز کے بیل آئوٹ پیکج کو دو برس گزر چکے ہیں۔ تاہم ملک میں بے روزگاری کی شرح اب بھی بلند ہے اور قرضوں کی عدم ادائیگی کے باعث گھروں کی نیلامی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ یہ اور ان جیسے کئی دیگر منظر نامے کئی لوگوں کیلیے تشویش کا باعث ہیں اور انہیں اپنا اور ملک کا معاشی مستقبل خطرے میں نظر آتا ہے۔

حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی چارلس فرگوسن کی ڈاکیومینٹری "ان سائیڈ جاب" جہاں ایک طرف 2008 کے معاشی بحران کا بے لاگ تجزیہ پیش کرتی ہے ، وہیں یہ فلم ایک نئے بحران کی پیش گوئی بھی کرتی نظر آتی ہے۔ فلم کے مطابق اگر اوباما انتظامیہ امریکہ کے بینکنگ سیکٹر اور دیگر بڑے کاروباری اداروں کے بارے میں سخت حکمتِ عملی نہیں اپناتی تو ایک نئے معاشی بحران کا آنا یقینی ہے۔

چارلس فرگوسن اپنی اس فلم میں 2008 کے مالی بحران کا ذمہ دار وال اسٹریٹ کے بڑے سرمایہ کاروں، بینکاروں اور بڑی بڑی کمپنیز کے کرتا دھرتائوں کی لالچ اور غیر ضروری اورغیر محفوظ سرمایہ کاری کو ٹہراتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں فرگوسن کا کہنا تھا کہ ان کے پیشِ نظر فلم بنانے کا مقصد یہ تھا کہ عام لوگوں کو سمجھایا جاسکے کہ مالی بحران نے کیسے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور کس طرح یہ بحران اب بھی امریکیوں کے سروں پر منڈلا رہا ہے۔

تحقیق اور مدلل بیان سے بھرپور یہ دستاویزی فلم اپنے ناظرین کو ایک ایسی حقیقت سے روشناس کراتی ہے جو ان کیلیے خاصی تلخ اور ناقابلِ قبول ہے۔ فلم میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح صدر ریگن کے عہد سے شروع ہونے والی معاشی پالیسیوں نے وال اسٹریٹ کے کرتا دھرتائوں کو غیر محفوظ سرمایہ کاریوں کیلیے آزاد چھوڑ کر امریکی معیشت کیلیے پٹری سے اترنے کا اہتمام کیا۔

فرگوسن نے اپنی اس فلم کی کہانی کے تانے بانے کئی اہم معیشت دانوں اور وال اسٹریٹ کے " بھیدیوں" کے تعاون سے بنے ہیں۔ جن میں سے ایک رابرٹ گیزدا بھی ہیں۔

گیزدا کہتے ہیں کہ گولڈ مین ساشے اور لیہمن برادرز سمیت کئی اہم اداروں کے ایگزیکٹوز جانتے تھے کہ ان کی غیر محفوظ سرمایہ کاریوں کا کیا نتیجہ نکلنے جارہا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر امریکی حکومت معاشی اداروں پر نگاہ رکھتی اور انہیں اتنی ڈھیل نہ دیتی تو شاید یہ سب نہ ہوتا۔

راک فیلر انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ماہرِ معیشت رابرٹ جانسن بھی کم و بیش یہی رائے رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 2008 کی کساد بازاری کا جو سب سے بڑا سبق امریکیوں کو ملا وہ یہ ہے کہ حکومتی روک ٹوک اور احتساب سے بالاتر معاشی نظام کسی بھی وقت ڈوب سکتا ہے اور لوگوں کو بے پناہ نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے۔

اپنی فلم میں فرگوسن نے اوباما انتظامیہ کو معاشی سہولیات کی فراہمی کی صنعت سے متعلق اس کی اختیار کردہ نرم پالیسیوں اور معاشی مشیروں کے انتخاب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اس بارے میں فرگوسن کا کہنا ہے کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران صدر اوباما نے کئی ایسے اشارے دیے تھے جس کے باعث لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ اس صورتِ حال سے نبٹنے کیلیے کوئی واضح حکمتِ عملی اختیار کرینگے۔ لیکن ان کے بقول اپنے انتخاب کے بعد صدر اوباما نے معیشت کےحوالے سے جن افراد کو اپنا مشیر نامزد کیا وہ درحقیقت وہی لوگ تھے جنہوں نے بحران کو جنم دینے میں کوئی نہ کوئی کردار ادا کیا تھا۔

رابرٹ جانسن بھی فرگوسن کی اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشی بحران کے ذمہ داروں کے احتساب اور سخت معاشی قواعد کی منظوری کیلیے صدر اوباما نے کوئی خاطر خواہ کردار ادا نہیں کیا۔ ان کے بقول ایسا اس لیے ہے کہ معاشی بحران کا سبب بننے والے بڑے بڑے بینکار اور صنعت کار ہی درحقیقت سیاستدانوں کی انتخابی مہمات کا خرچہ اٹھاتے ہیں۔

فلم بے لاگ تجزیہ پیش کرتی نظر آتی ہے اور وال اسٹریٹ کے بینکاروں کو امریکی معیشت اور حکومت کو یرغمال بنائے رکھنے کا موردِ الزام ٹہرا کر ان کے کڑے احتساب کا مطالبہ کرتی ہے۔

تاہم فرگوسن جمہوری نظام پر یقین رکھتے ہیں ۔ ان کے بقول وہ جانتے ہیں کہ امریکی حکومت کی پالیسیوں پر وال اسٹریٹ کی بالادستی ہمیشہ قائم نہیں رہے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ باوجود یکہ امریکی جمہوریت نامکمل اور مسائل سے دوچار ہے، یہ اب بھی ممکن ہے کہ امریکی عوام آگے بڑھیں اور پالیسیوں کی سمت درست کردیں۔

تاہم وہ یقین کے ساتھ یہ پیش گوئی بھی کرتے ہیں کہ آنے والے کئی سالوں تک امریکیوں کو وال اسٹریٹ کی اس لالچ اور ہوس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔

فرگوسن کی "ان سائیڈ جاب" کینز، نیویارک اور ٹورانٹو کے فلمی میلوں سے بہترین دستاویزی فلم کے ایوارڈز جیت چکی ہے جبکہ اس فلم کو آسکر کیلیے بھی فیورٹ قرار دیا جارہا ہے۔

XS
SM
MD
LG