رسائی کے لنکس

مشہور سماجی کارکن، عبدالستار ایدھی نے کہا ہے کہ بچوں کا عالمی دن منانے سے اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہوتا کہ لوگوں میں آگہی پیدا ہو۔ لیکن، بچوں کے حقوق پورے کرنے کے لئے ہر دن کام کرنے کی ضرورت ہے

اقوام متحدہ کے توسط سے، ہر سال، 20 نومبر کو بچوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ جمعرات کو دنیا بھر کے مختلف ممالک میں یہ دن منایا گیا۔

یہ دن منانے کا مقصد دنیا بھر کے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے آگہی پیدا کرنا ہے۔

بچوں کے ان حقوق میں زندہ رہنے کا حق، نشو و نما پانے کا حق، اپنی صلاحیتوں کے بھرپور استعمال کا حق، اپنی آواز سب تک پہنچانے کا حق، خوراک، علاج، چھت، ظلم اور استحصال سے تحفظ اور تعلیم حاصل کرنے کا حق شامل ہے۔

کیا دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی بچوں کا عالمی دن منایا گیا؟ جی ہاں۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ملک میں بچوں کے عالمی دن کی مناسبت سے مختلف پروگرام منعقد کئے گئے۔


وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے، سرگرم مشہور سماجی کارکن، عبدالستار ایدھی نے کہا ہے کہ بچوں کا عالمی دن منانے سے اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہوتا کہ لوگوں میں آگہی پیدا ہو۔ لیکن، بچوں کے حقوق پورے کرنے کے لئے ہر دن کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ایدھی صاحب کا کہنا تھا کہ آج بچے دہشت گردی اور جرائم کا شکار ہو رہے ہیں۔

بقول اُن کے، بچوں کو خوراک، چھت، تعلیم و تربیت اور تحفظ جیسے بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ کچھ بچوں کو تو خود ماں باپ گھر سے نکال دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر بچے کو محبت سے پالا جائے تو وہ کبھی بھی نہیں بگڑے گا اور ماں باپ کو، تنگ آ کر، اسے گھر سے نہیں نکالنا پڑے گا۔

عبدالستار ایدھی کا کہنا تھا کہ آج بھی ملک میں بچوں کے حقوق پورے نہیں ہو رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ان سے زندہ رہنے کا بنیادی حق بھی چھینا جا رہا ہے اور آج بھی بچوں کو کچرا کنڈی میں پھینکا جا رہا ہے اور لوگوں کو ایسے جرم اور گناہ سے روکنے کے لئے ایدھی سینٹر کے باہر ایک جھولا لگایا جاتا ہے تاکہ لوگ اپنے بچوں کو مار کر پھینک نہ دیں۔ ان سے زندہ رہنے کا بنیادی حق نہ چھینیں، بلکہ اسے ایدھی کے جھولے میں ڈال دیں۔

بچوں کی پرورش اور تربیت پہ لکھی گئی مشھور کتاب ڈاکٹر اسپوکس ’بے بی اینڈ چائلڈ کئیر‘ کے مطابق، بچوں کا تحفظ والدین کا اولین فرض ہے اور تحفظ بغیر محبت، تفریح اور تربیت جیسے پہلووں کی کوئی اہمیت نہیں، کیونکہ بچے اپنے والدین سے اس بات کی توقع کرتے ہیں کہ وہ ان کی حفاظت کریں گے۔ مزید یہ کہ بچوں کی نفسیاتی صحت کی بنیاد اس یقین پر ہوتی ہے کہ کوئی بڑا ہے جو اس بچے کو تحفظ دے سکتا ہے۔

بچوں کے تحفظ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایک بچی کی ماں، سعدیہ نے بتایا کہ آج بچوں کو صرف گلی محلوں میں گھومنے والے برے لوگوں سے ہی محفوظ رکھنے کی ضرورت نہیں، بلکہ انھیں انٹرنیٹ کی دنیا میں موجود خطرات سے بھی بچانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم، ’کونپل‘ ایک عرصے سے بچوں پہ ہونے والے مظالم کو روکنے کے لئے کام کر رہی ہے۔

سول اسپتال کراچی میں بچوں کے شعبے کی سربراہ، پروفیسر عائشہ مہناز ’کونپل‘ کی سربراہ ہیں۔ انھوں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بچے کو پیار اور توجہ نہ دینا بھی ظلم ہے۔ ’اسے ڈانٹنا اور مارنا بھی اور بچوں پہ کئے جانے والے ظلم و تشدد کی انتہا جنسی تشدد ہے۔ اور، تحقیق اور اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بچوں پہ جنسی تشدد کرنے والا عام طور پر خاندان کا ہی کوئی فرد ہوتا ہے، یا پھر محلے یا دوست احباب میں سے کوئی جس کی بچے تک رسائی ہوتی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو ان کی عمر کے حساب سے سمجھائیں کہ کوئی ان کو غیراخلاقی طور پر نہ چھوئے اور اگر کبھی ایسا کچھ ہو تو بچے فوری طور پر شور مچائیں اور اس جگہ سے ہٹ جائیں اور اپنے والدین کو ساری بات بتائیں۔

پروفیسر مہناز کا کہنا تھا کہ ملک میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے مزید قانون سازی کی ضرورت ہے اور جو قوانین موجود ہیں ان پر عمل درامد کیا جانا ضروری ہے۔ لیکن، سب سے اہم یہ کہ پورے معاشرے کو مل کر بچوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہئے۔

بچوں کے عالمی دن کی مناسبت سے، پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلز پر ماہرین کی باتیں اور تھر میں بھوک، پیاس، اور غربت سے ہلاک ہونے والے بچوں کی خبریں اور مختلف اداروں کے دعوے اور ملک میں پولیو سے معزور ہونے والے بچوں کے اعداد و شمار ساتھ ساتھ چلتے رہے اور ایدھی صاحب کی بات مختلف زاویوں سے سمجھ آتی رہی کہ بچوں کے حقوق پورے کرنے کے لئے ہر دن کام کرنے کی ضرورت ہے.

XS
SM
MD
LG