رسائی کے لنکس

بین الاقوامی برادری کی جانب سے 'شام امن عمل' کی حمایت


سلامتی کونسل

سلامتی کونسل

قرارداد میں اقوام متحدہ کے زیر سایہ شامی قیادت والے سیاسی عمل کی حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس میں چھ ماہ کی مدت کا باضابطہ طور پر ذکر کیا گیا ہے، جس دوران ایک عبوری حکومت تشکیل دی جائے گی، جس کے بعد 18 ماہ کے اندر اندر انتخابات کرائے جائیں گے

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام امن کے منصوبے کی متفقہ طور پر توثیق کر دی ہے۔

وزرائے خارجہ نے جمعے کی رات گئے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ مسودہ قرارداد کی منظوری دی، جس سے پہلے نیویارک میں 'انٹرنیشنل سیریا سپورٹ گروپ' کا اجلاس دن بھر جاری رہا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ، 'کونسل نے تمام متعلقہ فریق کو ایک واضح پیغام بھیجا ہے کہ اب وقت آچکا ہے کہ شام میں ہلاکتوں کو بند کیا جائے اور ایک حکومت کے لیے بنیادی ڈھانچے کی بنیاد ڈالی جائے، جو ایک طویل عرصے سے مشکلات کے شکار ملک کے لوگوں کا سہارا بنے'۔

قرارداد میں اقوام متحدہ کے زیر سایہ شامی قیادت والے سیاسی عمل کی حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس میں چھ ماہ کی مدت کا باضابطہ طور پر ذکر کیا گیا ہے، جس دوران ایک عبوری حکومت تشکیل دی جائے گی، جس کے بعد 18 ماہ کے اندر اندر انتخابات کرائے جائیں گے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ شام کےدھڑوں کے مابین امن مذاکرات کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں جنگ بندی پر عمل درآمد کیا جائے۔

اسد کا مستقبل

قرارداد کے متن میں شامی صدر بشار الاسد کے مستقبل کا کوئی ذکر نہیں ہے، جو روس اور مغربی ملکوں کے درمیان ایک متنازعہ معاملہ ہے۔ یہ اب بھی حل طلب ہے۔

کیری کے الفاظ میں، 'صدر اسد نے اپنی صلاحیت، اعتماد کھو دیا ہے کہ وہ ملک کو متحد رکھ سکیں؛ اور اُنھیں اخلاقی جواز حاصل نہیں کہ وہ مستقبل میں حکمرانی کر سکیں'۔

اُنھوں نے کہا کہ 'اگر لڑائی کو ختم ہونا ہے، تو لازم ہے کہ شامی عوام حکمرانی کے لحاظ سے متبادل سے اتفاق کرنے پر تیار ہوں'۔

سلامتی کونسل کے متعدد دیگر ارکان، جن میں برطانیہ اور فرانس کے وزرائے خارجہ شامل ہیں، اِسی موقف کے حامی ہیں۔

تنازع میں شروع ہی سے روس نے اسد کی حمایت جاری رکھی ہے اور وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اپنے کلمات میں 'شام کے عوام پر حل مسلط کیے جانے کی بیرونی کوششوں' کا ذکر کیا، جن میں، بقول اُن کے، 'اُن کے صدر کا معاملہ بھی شامل ہے'۔

بین الاقوامی اتفاقِ رائے

شام کے تنازع پر سلامتی کونسل کی قرارداد کی منظوری ایک اہم پیش رفت ہے، چونکہ تقریباً پانچ برس میں پہلی بار اِس 15 رُکنی تنظیم نے اپنی منقسم سوچ پر حاوی آتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے اس ملک کی سیاسی صورت حال کے بارے میں یک آواز ہوئی ہے۔

اِس سے قبل، سلامتی کونسل اسد حکومت کے کیمیاوی ہتھیاروں کے ذخیروں کو تلف کرنے کے اعلان کے مطالبے پر متحدہ ہوئی تھی۔ کونسل نے ایک اور قرارداد بھی منظور کی تھی، جس میں انسانی بنیادوں پر امداد تک رسائی کو فروغ دینے کے لیے کہا تھا۔

اسد حکومت کی جانب سے سیاسی احتجاج کو دبانے کے حربوں کے نتیجے میں کھلی خانہ جنگی جاری رہی ہے، جس میں اب تک 250000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اب ملک کی آدھی آبادی اندرونی طور پر بے دخل ہوچکی ہے، جب کہ ہلاکت خیز حالات سے بچ نکلنے کے لیے اس سال لاکھوں لوگ بحیرہ روم کے راستے یورپ کے خطرناک سفر پر مجبور ہوئے۔

XS
SM
MD
LG