رسائی کے لنکس

برسلز: افغانستان اعانتی فنڈ کے لیے 15.2 ارب ڈالر کا اعلان


افغان صدر محمد اشرف غنی نے پائیدار اعانت کی اپیل کرتے ہوئے بین الاقوامی امداد دینے والی حکومتوں سے عہد کیا کہ اُن کی حکومت بیشمار غربت کا مداوا کرنے کے لیے آئندہ کی کوششوں پر دھیان مرتکز رکھے گی۔

بین الاقوامی برادری نے سال 2017 سے 2020ء تک افغانستان کی ترقیاتی ترجیحات کے لیے رقوم مسیر کرنے کی مد میں 15.2 ارب ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

برسلز میں بدھ کے روز امداد دینے والے ملکوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ملک کے مستقبل کے بارے میں ’’مجھے بے انتہا اعتماد ہے‘‘۔

کیری کے الفاظ میں ’’سالہا سال سے ہماری مشترکہ کوشش کے نتیجے میں دنیا کے سب سے بڑے اتحاد کا اجلاس منعقد ہوا، اور ایک عرصے سے منعقد ہوتا چلا آیا ہے، جس کے حوصلہ افزا نتائج نکلے ہیں‘‘۔

افغان صدر محمد اشرف غنی نے پائیدار اعانت کی اپیل کرتے ہوئے بین الاقوامی امداد دینے والی حکومتوں سے عہد کیا کہ اُن کی حکومت بیشمار غربت کا مداوا کرنے کے لیے آئندہ کی کوششوں پر دھیان مرتکز رکھے گی۔

اندازوں کے مطابق، حکومتِ افغانستان اپنی بجٹ کا محض 20 فی صد حصہ فراہم کرنے کی استعداد رکھتی ہے، اور غنی نے توجہ دلائی کہ افغان آبادی کا 39 فی صد ہر روز ایک ڈالر 35 سینٹ سے بھی کم کماتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل، بان کی مون نے کہا ہے کہ حالانکہ افغانستان میں ناکامیاں اور حد سے زیادہ بدعنوانی درپیش ہے، ’’آج یہ بات ضروری ہے کہ اُسے بین الاقوامی برادری حمایت کا ٹھوس پیغام بھیجے‘‘۔

بان نے کہا کہ افغانستان کے رہنما ’’قابلِ قدر اصلاحات اور ترقیاتی پروگرام بناتے رہے ہیں، تاکہ عوام کی زندگیوں میں تبدیلی لائی جاسکے، جو بڑی مدت سے مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں‘‘۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ، فریڈریکا مغیرنی نے اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم سب کو چاہیئے کہ افغانستان کے ساتھ ایک نئے معاہدے کا عزم کریں‘‘۔

افغانستان پر برسلز میں منعقدہ اجلاس میں 75 ممالک اور 22 سے زائد بین الاقوامی تنظیمیں شریک ہوئیں۔

XS
SM
MD
LG