رسائی کے لنکس

اسپیکرز نے اِس بات پر زور دیا کہ پاکستانی خواتین اُسی وقت زیادہ با اختیار ہوسکتی ہیں جب وہ کسی پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی الگ شناخت بنائیں اور اپنی اہمیت کو پہچانیں

کراچی میں منعقدہ انٹرنیشنل وومن لیڈرشپ کانفرنس میں پاکستان بھر کی خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اپنے خطبات میں، قومی شعبہ جات مین نمایاں پیشہ ور اور ماہر خواتین نے موجودہ دور میں خواتین کو درپیش اہم مسائل پر گفتگو کی اور ان کی جانب شرکا کا دھیان مبذول کرایا؛ اور اس سلسلے میں کی جانے والی خدمات اور کاوشوں کا تفصیلی ذکر کیا۔

اس موقع پر ’وومن ایکسی لینس ایوارڈز‘ بھی دیے گئے، جس تقریب کے دوران پاکستان میں مختلف شعبوں میں کام کرنےوالی خواتین کی اہم خدمات کو سراہا گیا۔

تقریب کے دوران، خواتین اسپیکرز نے معاشرے میں درپیش مسائل خاص طور پر دہشتگردی کا ذکر کیا، اور اس ضمن میں خواتین کی اہم خدمات پر روشنی ڈالی اور بہتر خدمات پر، خواتین میں ایوارڈز بھی تقسیم کیے۔

کانفرنس کے اسپیکرز نے اپنے تبصرے میں پاکستان کی خواتین کے حوالے سے گفتگو میں کہا کہ ’جنوبی ایشیا کے کئی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی خواتین کو کئی مسائل درپیش ہیں‘۔

بقول اُن کے، پاکستانی معاشرے میں خواتین ایک جانب معاشرتی استحصال اور دیگر مسائل کا شکار ہیں، جب کہ ساتھ ہی، کئی خواتین قومی دھارے میں مثالی کردار ادا کر رہی ہیں۔

اسپیکرز کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی خواتین اس وقت زیادہ با اختیار ہوسکتی ہیں جب وہ کسی پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی الگ شناخت بنائیں اور اپنی اہمیت کو پہچانیں۔

کراچی کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ اس تقریب میں خواتین سیاسی رہنماؤں، سول سوسائٹی اور شوبز سمیت مختلف شعبوں سے منسلک خواتین نے شرکت کی۔

’وائس آف امریکہ‘ کی نمائندہ سے خصوصی گفتگو میں پاکستانی خواتین کے با اختیار ہونے پر ملک کی نامور ماڈل نادیہ حسین، کالم نگار ماہ رخ مغل، ماڈل صائمہ اظہر اور براڈکاسٹر راحیلہ فردوس کیا کہتی ہیں، دیکھئے اس ویڈیو رپورٹ میں:

XS
SM
MD
LG