رسائی کے لنکس

اٹھارویں بین الاقوامی ایڈز کانفرنس


اٹھارویں بین الاقوامی ایڈز کانفرنس

اٹھارویں بین الاقوامی ایڈز کانفرنس

اٹھارویں بین الاقوامی ایڈز کانفرنس یورپی ملک آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں اتوار سے شروع ہو رہی ہے جو ایک ہفتے تک جاری رہے گی۔

دنیا میں ایچ آئی وی اور ایڈز کی وبا کی روک تھام کے لیے عالمی ایڈز سوسائٹی ہر دو سال بعد ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرتی ہے جس میں دنیا بھر سے طبی ماہرین، سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں کے ارکان، ایچ آئی وی اور ایڈز کے مریض اور اس کی روک تھام کے لیے کام کرنے والے ایک چھت کے نیچے جمع ہوتے ہیں ۔ اس سال کی کانفرنس میں 20 ہزار سے زیادہ افراد شریک ہو رہے ہیں۔

اس وقت دنیا بھر میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد تین کروڑ40 لاکھ کے قریب ہے جن میں سے 40 فیصد اس امر سے ناواقف ہیں کہ وہ اس بیماری کا شکار ہیں۔

ایڈز سے ہر سال دنیا بھر میں 20 لاکھ مریض ہلاک ہوتے ہیں، اور 27 لاکھ نئے لوگ ہر سال اس بیماری کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ دنیا میں اس بیماری سے سب سے زیادہ متاثر افراد افریقہ میں ہیں مگر اب ایشیا میں بھی یہ بیماری ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کی ریکارڈ شدہ تعداد صرف چار یا پانچ ہزار ہے لیکن اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایڈز کے اندازے کے مطابق یہ تعداد دراصل ایک لاکھ کے قریب ہے۔ جن میں سے زیادہ تر مریض صرف چند طبقوں تک محدود ہے۔ ان میں سب سے اہم طبقہ منشیات کے عادی ان لوگوں کا ہے جو انجکشن کے ذریعے منشیات کا استعمال کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ ایک ہی انجکشن کئی لوگوں کے جسم میں لگایا جاتا ہے، اس لیے ایڈز کا وائرس ایک مریض سے دوسرے شخص کے جسم میں منتقل ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد جنسی کاروبار کرنے والے طبقے بھی اس بیماری سے زیادہ متاثر ہیں۔

ایڈز، ٹی بی اور ملیریا کی روک تھام کے گلوبل فنڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مشیل کزیچکن کے مطابق پاکستان میں سرکاری و غیر سرکاری ادارے صحیح سمت جا رہے ہیں لیکن ان کی راہ میں مشکلات ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پاکستان میں چند طبقے اس وبا سے زیادہ متاثر ہیں اور ان پر توجہ دینے کی پالیسی بھی درست ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ وہی طبقے ہیں جنہیں علاج کی سہولیات فراہم کرنا سب سے مشکل ہے کیونکہ بقول ان کے”ان طبقوں کے خلاف تعصب برتا جاتا ہے، انہیں برا سمجھا جاتا ہے، اور بعض دفعہ سوسائٹی یہ سمجھتی ہے کہ ان طبقوں پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔،،

ڈاکٹر کزیچکن کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو یہ ڈر ہو کہ اگر وہ علاج کے لیے گیا تو گرفتار ہو جائے گا تو وہ کبھی بھی اس بیماری کا علاج نہیں کروائے گا۔

اسی لیے اس سال کی کانفرنس میں بنیادی طور پر اس امر پر زور دیا جائے گا کہ ایڈز کے سد باب کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں تمام طبقوں کو انسانی حقوق حاصل ہوں۔

XS
SM
MD
LG