رسائی کے لنکس

پاکستانی حاجیوں کی راہنمائی کے لئے تقریباً 1500 افراد کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ ان میں سے 1000خدام پاکستان سے سعودی عرب پہنچیں گے، جبکہ باقی 500 افراد کی خدمات مقامی طور پر حاصل کی گئی ہیں

پاکستانی شہریوں کی ادائیگی حج کے لئے سعودی عرب روانگی شروع ہوگئی ہے۔ پیر کو کراچی، کوئٹہ اور اسلام آباد سے تین مختلف پروازیں عازمین حج کو لیکر سعودی عرب روانہ ہوئیں۔ عازمین کی روانگی اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک جاری رہے گی۔

مذکورہ تین شہروں کے علاوہ سیالکوٹ، لاہور اور پشاور سے بھی عازمین کی بڑی تعداد حجاز مقدس کے لئے روانہ ہوگی۔

پی آئی اے حکام کے مطابق سیالکوٹ سے اس سال تین ہزار پانچ سو اکیانوے، پشاور سے پندرہ ہزار چھ سو باسٹھ ، کراچی سے چھ ہزار سات سو اڑتیس، لاہور سے آٹھ ہزار نو سو اننچاس ، اسلام آباد سے بارہ ہزار چور سو پانچ اور کوئٹہ سے دس ہزار ایک سو ننانوے عازمین حج پاکستان کی قومی ائیر لائن سے سفر کریں گے، جبکہ باقی افراد سعودی ائیرلائن اور دوسری فضائی کمپنیوں کے ذریعے سفر کریں گے۔

پاکستان کے لئے اس سال عازمین کا کوٹہ تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار طے تھا۔ تاہم، ان دنوں مسجد الحرام میں تعمیراتی کام جاری ہے جس کی تکمیل حج تک ممکن نہیں رہی۔ لہذا، رواں سال جون میں سعودی عرب نے پاکستان سمیت تمام ممالک سے عازمین کی تعداد میں 20فیصد کمی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کمی کے بعد، پاکستان سے عازمین حج کی تعداد 1 لاکھ 43ہزار 368رہ گئی ہے۔

پاکستان کی وزارت مذہبی امور نے عازمین حج سے رضاکارانہ طور پر اپنے نام واپس لینے کی اپیل کی تھی جس میں کمزور، ضعیف مرد و خواتین اور بچوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس سال حج پر روانہ نہ ہوں۔ اس حوالے سے، ایک جامع حکمت عمل بھی ترتیب دی گئی ہے ۔

سعودی عرب میں خصوصی انتظامات
سعودی شہر جدہ میں مقیم سینئر صحافی شاہد نعیم نے ’وائس آف امریکہ‘ کو ڈائریکٹر جنرل حج ابو عاکف کے حوالے سے بتایا کہ امسال سرکاری اسکیم کے تحت 85 ہزار 696 عازمین فریضہ حج ادا کریں گے، جبکہ باقی عازمین کی ذمے داری پرائیوٹ ٹور آپریٹرز کی ہوگی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستانی حاجیوں کی خدمت کے لئے تقریباً 1500 افراد کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ ان میں سے 1000خدام پاکستان سے سعودی عرب پہنچیں گے جبکہ باقی 500 افراد کی خدمات مقامی طور پر حاصل کی گئی ہیں۔

عازمین کی رہائش سے متعلق سوال پر ابوعاکف کا کہنا ہے کہ مکہ مکرمہ میں 125 عمارتیں حاصل کی گئی ہیں۔ بلو کیٹگری کی رہائش میں مجموعی طور پر 2 ہزار 500 عازمین ہیں جس کا حرم سے فاصلہ 900 میٹرکے اندر ہے جبکہ گرین گیٹگری کا فاصلہ 9 سو میٹرسے 2 کلومیٹرتک ہو گا، جس میں 7 ہزار عازمین کی رہائش ہے جبکہ باقی عازمین مختلف علاقوں میں ہیں جہاں سے انہیں حرم آنے اور جانے کیلئے خصوصی طور پر بسیں فراہم کی جائیں گی۔

ڈائریکٹر جنرل حج نے مزید بتایا کہ عازمین حج کو اس سال کوئی موبائل فون یا سم فراہم نہیں کی جائے گی، جبکہ جانوروں کی قربانی کے لئے بھی حجاج کو اپنی مرضی سے اسلامی ترقیاتی بینک کے ذریعے ٹوکن خریدنے یا نہ خریدنے کا اختیار ہوگا۔
XS
SM
MD
LG