رسائی کے لنکس

امریکی مسلمان مختلف مذاہب کو قریب تر کرنے میں مصروف عمل


صدر براک اوباما نے ایبو پٹیل کو وائٹ ہاؤس کی مزہبی کونسل کے مشیر کی حیثیت سے مقرر کیا ہے

صدر براک اوباما نے ایبو پٹیل کو وائٹ ہاؤس کی مزہبی کونسل کے مشیر کی حیثیت سے مقرر کیا ہے

ہڈس سے فارغ التحصیل ایبو پٹیل نے انٹرفیتھ یوتھ کور، کے نام سے ایک رضاکارتنظیم قائم کی ہے۔ تنظیم کے قیام کا مقصد مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا ہے۔
ایبو پٹیل کا کہنا ہے کہ انہیں شروع ہی سے مختلف مذ اہب سے گہرا لگاوٴ رہا ہے۔ انہوں نے 1975 ء میں ایک بھارتی نژاد ماں باپ کے گھر میں آنکھ ضرور کھولی تھی مگر ابھی وہ شیر خوار ہی تھے کہ والدین کے ساتھ ممبئی سے شکاگو آگئے۔ یہاں ان کی پرورش ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں ان کے دوست مختلف مذہبی پس منظر رکھتے تھے۔
تیرہ سال کی عمر کو پہنچے تو یہ خیال آیا کہ جب ان کا ایک دوست ہندو،ایک یہودی او ر ایک عیسائی ہے تو ایسے میں ان کا مسلمان ہونا کس حد تک اہمیت کا حامل ہے؟اس خیال نے انہیں اپنے مذہب سے اور قریب اور نہایت سنجیدہ کردیا۔ پٹیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے مختلف سطحوں پر مذہبی عقائد سے متعلق گفتگو کرنا شروع کردیا۔
پٹیل نے دوہزار سات میں اپنے تجربات کو قلم کے ذریعے کاغذ پر منتقل کرنے کا آغاز کیا۔ ایکٹ آف فیتھ کے نام سے۔ دراصل یہ ایک امریکی مسلمان کی جانب سے ایک نسل کی روحانی جدو جہد کا قصہ ہے۔
انٹر فیتھ یوتھ کور کے نام سے رضاکارانہ تنظیم کا تصور انہوں نے پیس کورپس سے متاثر ہوکر ان دنوں ترتیب دیا تھا جب وہ آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ میں زیر تعلیم تھے۔ اسی یونیورسٹی سے انہوں نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
پٹیل کا اس سلسلے میں یہ کہنا ہے کہ انٹرفیتھ یوتھ کور کے قیام کا بنیادی مقصد مختلف مذاہب کے نوجوانوں کو رضاکارانہ طور پر ایک دوسرے کے قریب لانا ہے تاکہ وہ بین ا لمذاہب سے تعلق رکھنے کے باوجود لوگوں کی خدمت کرنے کے جذبے کو پروان چڑھا سکیں۔
انٹرفیتھ یوتھ کور کا پہلا پروجیکٹ امریکا سے باہر منعقد ہوا۔ پٹیل نے بین المذاہب کے طور طریقوں اور نظریات سے متعلق کام جنوبی افریقہ، کینیا، سری لنکا اور بھارت میں انجام دیا۔
ایبو پٹیل کا وائٹ ہاوٴس کی ایڈوائزی کونسل میں تقرر صدر براک اوبامہ نے کیا ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ وائٹ ہاوٴس کی ایک مشاورتی کونسل ہے جو مختلف عقائد کی بنیاد طے پانے والی شراکت داریوں سے نبردآزما رہتی ہے۔
سن دوہزار دو میں ایبو پٹیل واپس شکاگو چلے آئے۔ یہاں ا ٓکر انہوں نے فورڈ فاؤنڈیشن کے اشتراک سے انٹرفیتھ یوتھ کور کے لئے مستقل قیام گاہ قائم کی۔
سن دوہزار چھ تک انٹر فیتھ یوتھ کور جو صرف شکاگو میں پناہ گزینوں اور بے گھر افراد کے لئے کام کرتی تھی اسے شام میں نوجوان بین المذاہب رہنماوٴں کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے پر عالمی سطح پر پہچان بنانے کا موقع مل گیا۔ اس کے بعد سے تو گویا انڈونیشیاء، قازقستان، منگولیا اور فلپائن تک اس تنظیم کو اپنے خیالات پہنچانے کا موقع ملا۔اب برطانیہ، قطر، یورپ اور بھارت میں اس تنظیم کے لوگ تربیتی ورکشاپس منعقد کررہے ہیں۔
پٹیل کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اس بات کا بخوبی ادراک ہوگیا ہے کہ بین المذاہب تعاون میں بڑی گنجائش موجود ہے۔ پٹیل کا نام " یوایس نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ " نامی ہفتہ وارنیوز میگزین کی جانب سے سن دوہزار نو کے بہترین امریکی رہنماوٴں کی حیثیت سے پیش کیا جاچکا ہے۔ اسی سال ان کا نام پانچ فیوچر پالیسی لیڈرز ٹو واچ کے طور پر پیش کیا گیا۔ انہیں ہاورڈ کے کینیڈی اسکول نے نامزد کیا تھا۔ انہیں روزولیٹ انسٹی ٹیوٹ کے فری ڈم آف ورک شپ میڈل سے بھی نوازا جاچکا ہے۔
پٹیل کا کہنا ہے کہ مذہب اکیسویں صدی کا سب سے اختلافی موضوع ہوگا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس سے عیسائی اور مسلمانوں ، یہودی اور بدھ مت کے ماننے والے اپنے اپنے عقائد کو منقسیم نہیں کرسکیں گے تاہم اس سے مذہبی اکائی متاثر ضرور ہوگی۔
پٹیل کہتے ہیں کہ یہاں مذہبی totalitariansسے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے مذہب کے علاوہ دوسرے مذاہب کی ہر صورت مذمت کرتے ہیں۔ وہ اپنے عقائد پر اندھا اعتماد رکھتے ہیں اور کسی کی نہیں سنتے۔ ان کی بہترین مثال آج کے خودکش بمبار ہیں۔ یہ افراد کسی بھی ایسے شخص کو قتل کرنے سے نہیں چوکتے جو ان کے عقائد پر یقین نہ لاسکے۔
پٹیل کا کہنا ہے کہ دوسری جانب مذہبی pluralists سے مراد ایسے افراد ہیں جو اپنی مذہبی روایات پر گہرا یقین رکھتے ہیں لیکن دوسرے مذہب کی روایات کو اپنے لئے موزوں نہیں سمجھتے ۔

XS
SM
MD
LG