رسائی کے لنکس

دلچسپ اور عجیب امریکی قوانین

  • جمیل اختر

دلچسپ اور عجیب امریکی قوانین

دلچسپ اور عجیب امریکی قوانین

حکومتیں ، ریاستیں اور شہری ادارے اپنی ضرورتوں اور امن و امان کے پیش نظر وقتا فوقتا قوانین بناتے رہتے ہیں۔ کچھ قوانین کی افادیت طویل عرصے پر برقرار رہتی ہے اور کچھ قوانین ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کے باعث اپنی اہمیت کھودیتے ہیں۔ ایسے قوانین عام طورپر ختم کردیے جاتے ہیں ، لیکن کچھ قانون ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا استعمال اگرچہ متروک ہوچکا ہوتا ہے، لیکن وہ قانون کی کتابوں میں بدستور موجود ہوتے ہیں۔

بعض متروک قوانین ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اگر انہیں آج کے تناظر میں دیکھا جائے تو اگرچہ وہ بڑے دلچسپ اور عجیب و غریب لگتے ہیں، لیکن وہ گذرے دور کی ایک تصویر ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔ آئیے نظر ڈالتے ہیں ماضی میں مختلف امریکی ریاستوں اور شہری حکومتوں کے نافذ کردہ کچھ ایسے ہی قوانین پر جواگرچہ اب وہ زیر استعمال نہیں ہیں لیکن ان میں سے کئی ایک اب بھی قانون کی کتابوں میں موجود ہیں۔

1۔ 1930 میں امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر اونٹیریو کی سٹی کونسل نے ایک قانون منظور کیا جس کے تحت شہری حدود میں مرغ کے بانگ دینے پر پابندی لگا دی گئی۔اسی طرح ریاست مشی گن میں قانون سازی کرکے ایئرپورٹ کی حدود کے 300 فٹ کے اندر مرغ کی آذان پر پابندی لگادی گئی تھی۔

2۔ سان فرانسسکو غالباً دنیا کا واحد شہر ہے جہاں ایک قانون کے ذریعے شہریوں کو دھوپ فراہم کرنے کی ضمانت دی گئی تھی۔

3۔ کیلی فورنیا میں لائسنس حاصل کیے بغیر چوہے پکڑنے کے لیے چوہے دان یا کسی دوسری چیز کے استعمال کی ممانعت کردی گئی تھی۔ اسی طرح ریاست اوہائیو کے شہرکلیولینڈ میں بھی شکار کا لائسنس حاصل کیے بغیر چوہے پکڑنا قابل دست اندازی جرم قرار دیا گیا تھا۔

4۔ کولوراڈو کے شہر ڈینور میں سٹی کونسل نے ایک قانون کے ذریعے اپنا ویکم کلینر اپنے ہمسائے کو مستعار دینے پر پابندی عائد کردی تھی۔

5۔ کتے کو امریکی معاشرے میں ایک اہم مقام حاصل ہے اورایک اندازے کے مطابق یہاں پالتوکتوں کی تعداد سات کروڑ سے زیادہ ہے۔ یہاں ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے کئی ریاستوں میں قانون بھی بنائے گئے ۔ ریاست کولوراڈو کے شہر ڈینور میں ایک قانون کے تحت کتوں کو پہلے سے آگاہ کیے بغیر انہیں پکڑنے کی ممانعت کی گئی تھی۔ قانون میں کہا گیا ہے کہ آوارہ کتے پکڑنے والے افراد اپنی کارروائی سے قبل اہم سڑکوں، پارکوں اور دوسرے عوامی مقامات پر اشتہار لگائیں اور اسے تین دن تک مشتہر کریں۔

اسی طرح ریاست الی نوائے کے شہر نارمل میں کتے کے سامنے مضحاکہ خیز شکلیں بنانا اور اس کا منہ چڑھانے کی قانونی طورپر ممانعت تھی۔ جب کہ اس سلسلے میں اوکلاہاما کا قانون اس سے بھی زیادہ سخت ہے اور اسے قابل دست انداز پولیس جرم قرار دیا گیا ہے۔ جب کہ اسی ریاست کے شہر زبون کی ایک قانونی دفعہ کے تحت کتے ، بلی یا کسی پالتوجانور کو سلگتا ہوا سگریٹ دینے کے سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ممکن ہے کہ آج سے چند عشرے قبل امریکہ میں پالتو جانور بھی تمباکو نوشی کرتے ہوں کیونکہ ریاست الی نوائے کے شہر ساؤتھ بینڈ میں 1924 میں ایک عدالت نے ایک بندر کو سگریٹ پینے پر 25 ڈالر جرمانہ عائد کیا تھا۔ تاہم ریاست اوہائیو کے شہر بولڈنگ نے کتوں سے قدرے بے مروتی کا برتاؤ کرتے ہوئے ایک قانون کی منظوری دی جس کے تحت پولیس کو یہ اختیار دیا گیاتھا کہ کسی کتے کو چپ کرانے کے لیے طاقت کا استعمال کرسکتی ہے۔

6۔ کئی امریکی ریاستوں میں کئی دوسرے جانوروں کے لیے بھی قانون سازی کی گئی تھی۔ مثلاً اٹلانٹا کے ایک قانون میں کہا گیا ہے کہ زرافے کو بجلی یا ٹیلی فون کے کھمبے کے ساتھ باندھنا جرم ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس زمانے میں لوگ نہ صرف یہ کہ زرافے پالتے تھے بلکہ انہیں بجلی اور ٹیلی فون کے کھمبوں کے ساتھ باندھتے بھی تھے۔ مگر آپ بالٹی مور میں نافذ کیے جانے والے اس قانون کے بارے میں کیا کہیں گے جس میں شہریوں سے کہا گیا تھا کہ وہ شیر کو فلم دکھانے اپنے ساتھ سینماہال نہیں لے جاسکتے۔ ایک ایسا ہی قانون ڈیلاویئر کا ہے جس کے مطابق پارکنگ میٹر کے ساتھ ہاتھی باندھنے کی فیس گاڑی پارک کرنے کے برابر ہے۔

7۔ آئس کریم دنیا میں ہر جگہ مقبول ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ماضی میں بعض امریکی ریاستوں میں آئس کریم کے حوالےسے کچھ مسائل پیش آتے رہے ہیں جس کا اظہار اس پر قانون سازی سے ہوتاہے۔ مثال کے طور پر ریاست انڈیانا کے شہر بکنل کی شہری انتظامیہ نے ایئر پورٹ پر کانٹے کے ساتھ آئس کریم کھانا خلاف قانون قرار دیاتھا۔ اسی طرح ڈیلاوئیر کے ایک قانون میں کہا گیا ہے پائلٹ یا کوئی بھی مسافر آئس کریم جیب میں ڈال کر جہاز میں سوار نہیں ہوسکتا اور نہ ہی جہاز میں سوار ہونے کے لیے قطار میں کھڑا ہوسکتا ہے۔ جب کہ کنساس میں آئس کریم جیب میں ڈال کر لے جانے کو خلاف قانون قرار دیا گیا تھا۔ اور غالباً ریاست نیوجرسی کے شہر نیورک کا یہ قانون ڈاکٹروں کی خوشنودی کے لیے تھا کہ شام چھ بجے کے بعد ڈاکٹری نسخے کے بغیر آئس کریم خریدنا خلاف قانون ہے۔

8۔ کھانے پینے کی بات ہورہی ہے تو ذرا لہسن کا ذکر بھی ہوجائے جسے آج کے طبی ماہرین صحت کے لیے ضروری خیال کرتے ہیں، مگر کئی امریکی ریاستوں کے چند عشرے پہلے کے قوانین ایک اور تصویر پیش کرتے ہیں۔ مثال کے طورپر انڈیانا کے شہر گیری کے ایک قانون کے مطابق کوئی بھی شخص لہسن کھانے کےچارگھنٹے بعد تک سینما ہال جاسکتا تھا اور نہ ہی پبلک ٹرانسپورٹ میں سوار ہوسکتاتھا۔ اسی طرح رہوڈ آئی لینڈ میں لہسن کھانے والے پر یہ پابندی لگادی گئی تھی کہ وہ اس کے بعد چا رگھنٹوں تک ایئرپورٹ کی حدود میں داخل نہیں ہوسکتا۔

9۔ اب کچھ ذکر ہوائی جہازوں کا۔ ڈیلاویئر کے ایک مقامی قانون کے مطابق ہوائی جہاز میں چھینکنے کی ممانعت کی گئی تھی۔ ریاست جارجیا کے شہر پوکاٹا لیگو کا ایک قانون200 پونڈ سے زیادہ وزنی عورت کو نیکر پہن کر جہاز میں سوار ہونے سے روکتا ہے۔ ریاست ورمانٹ کے ایک قانون کے مطابق کوئی شادی شدہ شخص اتوار کے روز ہوائی جہازکا سفر نہیں کرسکتا۔ہوائی سفر کے سلسلے میں سب سے دلچسپ قانون ریاست اوہائیو کے شہر ویسٹ یونین کا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی شادی کے پہلے سال اپنی بیوی کے بغیر ہوائی جہاز پر نہیں جاسکتا ۔

10- کئی امریکی ریاستوں میں خواتین کے حوالے سے خاصے دلچسپ قوانین موجود ہیں۔ ریاست پنسلوانیا کے ایک قانون کے تحت کوئی بھی شخص اپنی بیوی کی تحریری اجازت کے بغیر شراب نہیں خرید سکتا۔ جب کہ ڈیلاویئر کا قانون عورتوں کو اپنے بال خشک کرتے وقت ہیئر ڈرائر کے نیچے سونے سے روکتا ہے اور اگروہ بیوٹی پارلر میں ہیئر ڈرائر کے نیچے سوجائیں تو اس کے ساتھ پارلر کے مالک کو بھی گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ امریکہ میں خواتین کی آزادیوں کی مثال دینے والے ذرا مشی گن کے اس قانون پر بھی نظر ڈالیں جس میں انہیں اپنے خاوندکی اجازت کے بغیر اپنے بال کاٹنے سے روکا گیا ہے۔ جب کہ اوکلاہاما میں ریاست سے لائسنس حاصل کیے بغیر خواتین کو اپنے بال کاٹنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ ایک دلچسپ قانون ریاست ٹینی سی کے شہر میمفس کا ہے جس میں کہا گیا ہے کوئی خاتون اس وقت تک کار نہیں چلاسکتی جب تک کار کے آگے ایک شخص سرخ جھنڈی لے کر نہ چل رہا ہو۔ممکن ہے کہ اس زمانے میں خواتین بہت زیادہ ایکسیڈنٹ کرتی ہوں۔ ریاست واشنگٹن میں ایک ایسا ہی قانون مردوں کے بارے میں بنایا گیا تھا جس کے مطابق رات کے وقت کوئی شخص اس وقت تک گاڑی نہیں چلاسکتا تاوقتتکہ ایک شخص لالٹین لے کر اس کے آگے نہ چل رہا ہو۔

11۔ دوسروں کے خراٹوں سے اکثر لوگ تنگ ہوتے ہیں، لیکن خراٹوں پر قانون سازی غالباً صرف ریاست میساچوسٹس میں ہی کی گئی تھی اور کمرے کے دروازے اور کھڑکیاں اچھی طرح بند کیے بغیر خراٹے لینے کو قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دیا گیاتھا۔

12۔ جنوں بھوتوں کی کہانیاں تو آپ نے بہت پڑھ اور سن رکھی ہوں گی لیکن شاید یہ کبھی نہ سنا ہوکہ وہ انسان کے بنائے ہوئے قوانین کے پابند بھی ہیں۔ تاہم یاست الی نوائے کے شہر اربانا کی سٹی کونسل نے ایک قانون کے ذریعے جنوں ، بھوتوں اور بلاؤں پر یہ پابندی عائد کردی تھی کہ وہ شہر کی حدود میں داخل نہیں ہوسکتے۔ اس قانون پر عمل ہوا یا نہیں، اس بارے میں تاریخ خاموش ہے۔

13۔ اور آخر میں امریکی ریاست ویسٹ ورجینیا کی کاؤنٹی نکولس کا منظور کردہ ایک قانون بلاتبصرہ ، جس کے تحت پادریوں پر پہ پابندی عائد کی گئی کہ وہ اپنے واغط کے دوران کوئی لطیفہ نہیں سنا سکتے۔

XS
SM
MD
LG