رسائی کے لنکس

تشدد سے بچاؤ کے لیے بین المذاہب مکالمہ ضروری: پوپ فرانسس


ںیروبی آمد پر پوپ کا استقبال

ںیروبی آمد پر پوپ کا استقبال

نیروبی میں ایک بین المذاہب اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پوپ فرانسس نے کہا کہ بین المذاہب مکالمہ محض ایک تجویز نہیں بلکہ ’’لازمی‘‘ ہے۔

پوپ فرانسس نے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں مسیحی اور مسلم رہنماؤں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں انتہا پسندی اور خدا کے نام پر پرتشدد کارروائیوں سے بچنے کے لیے ایک دوسرے سے مکالمہ کرنا ہو گا۔

نیروبی میں ویٹیکن کے سفارتی مشن میں ایک بین المذاہب اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پوپ نے کہا کہ بین المذاہب مکالمہ محض ایک تجویز نہیں بلکہ یہ ’’لازمی‘‘ ہے۔ انہوں نے حال ہی میں کینیا میں مسلمان شدت پسندوں کی جانب سے متعدد حملوں کا ذکر کیا جس میں شمالی کینیا میں اپریل میں گاریسا یونیورسٹی میں ہونے والے حملے جس میں 150 افراد ہلاک اور 2013 میں نیروبی کے ویسٹ گیٹ مال میں ہونے والے حملے کا ذکر شامل تھا جس میں 67 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ان حملوں کی ذمہ داری الشباب گروپ نے قبول کی تھی اور یہ کینیا کے حکومت کی طرف سے پڑوسی ملک صومالیہ میں الشباب کے خلاف جنگ کے لیے فوج بھیجنے کے جواب میں کیے گئے تھے۔

جمعے کو رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ نیروبی کی کچی آبادی کنگیمی میں غربا سے ملاقات کریں گے اور بعد میں کسرانی سٹیڈیم میں نوجوانوں سے خطاب کریں گے۔

بعد میں پوپ یوگنڈا میں مسیحی شہدا کے کے ایک مزار پر حاضری دیں گے اور جمہوریہ وسطی افریقہ میں ایک مسجد اور پناہ گزینوں کے ایک کمیپ کا دورہ کریں گے۔ پوپ افریقہ کے اپنے پہلے دورے کے دوران مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان خلیج کو کم کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

اپنے دورے کے دوران پوپ موسمیاتی تبدیلی پر بھی بات کریں گے۔ اس سے قبل وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ موسمی تغیر سے پسماندہ طبقات زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG