رسائی کے لنکس

دہشت گردی کے خلاف عالمی برداری میں اتحاد ضروری ہے: سرتاج عزیز


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اُنھوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران افغانستان، بنگلہ دیش، عراق، سعودی عرب اور ترکی میں دہشت گردی کے بڑے واقعات ہوئے اور اس تناظر میں عالمی برادری میں تعاون ضروری ہے۔

پولینڈ کے شہر وارسا میں جمعہ سے شروع ہونے والے نیٹو کے سربراہ اجلاس کی مناسبت سے پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے ایک بیان میں کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں میں کامیابی بین الاقوامی برداری کے باہمی تعاون ہی سے ممکن ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران افغانستان، بنگلہ دیش، عراق، سعودی عرب اور ترکی میں دہشت گردی کے بڑے واقعات ہوئے اور اس تناظر میں عالمی برادری میں تعاون ضروری ہے۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب اور ملک کے دیگر حصوں میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملنے والی کامیابیوں کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔

اُنھوں نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ افغانستان میں حصول امن کے عمل کے لیے پاکستان کی کوششوں سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔

دفاعی تجزیہ کار لفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) امجد شعیب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں پاکستان اور افغانستان اگر ایک دوسرے سے تعاون کریں تو کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔

’’آپس میں مل جل کر معاملات چلائے جائیں تو دونوں اطراف کے تعاون سے میرا خیال ہے کہ (دہشت گردی) پر جلدی قابو پایا جا سکے گا۔۔۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ یہ کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہے ’’جب یہ سب ممالک مسئلہ اور دشمن ایک ہی ہے تو پھر اس بارے میں سب کو مل کر کارروائی کرنی چاہیئے بجائے اس کے ایک دوسرے پر کوئی الزام تراشی کی جائے۔‘‘

نیٹو کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے افغان صدر اشرف غنی بھی وارسا پہنچے ہیں۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے امریکہ کے صدر براک اوباما نے اعلان کیا تھا کہ افغانستان میں آئندہ سال بھی 8400 امریکی فوجی تعینات رہیں گے۔

امریکہ کے صدر کی طرف سے اس سے قبل اعلان کردہ منصوبے کے تحت کہا گیا تھا کہ افغانستان میں اس وقت تعینات 9800 امریکی فوجیوں کی تعداد کو 2016ء کے اختتام تک کم کر کے 5500 کر دیا جائے گا۔

اُدھر امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل جمعہ کو افغانستان پہنچے۔ خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق جنرل جوزف نے کہا ہے کہ افغانستان میں تعینات امریکہ فوجیوں کی تعداد میں 2016 اختتام تک لگ بھگ 1400 اہلکاروں کی کمی سے امریکی مشن پر کو منفی اثر نہیں پڑے گا۔

افغانستان میں اس وقت بین الاقوامی افواج کے لگ بھگ 12 ہزار اہلکار تعینات ہیں جن میں سے 9800 امریکی فوجی ہیں۔

XS
SM
MD
LG